اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 481

اصحاب بدر جلد 4 481 رکھ سکے گی اور قریش کو ہم ذلیل کر کے چھوڑیں گے۔یارسول اللہ ! آپ تو دنیا میں سب سے زیادہ نیک، سب سے زیادہ رحیم اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔کیا آج آپ اپنی قوم کے ظلموں کو بھول نہ جائیں گے۔ابو سفیان کی یہ شکایت اور التجا سن کر وہ مہاجرین بھی تڑپ گئے جن کو مکہ کی گلیوں میں پیٹا اور مارا جاتا تھا جن کو گھروں اور جائیدادوں سے بے دخل کیا جاتا تھا اور ان کے دلوں میں بھی مکہ کے لوگوں کی نسبت رحم پیدا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! انصار نے مکہ والوں کے مظالم کے جو واقعات سنے ہوئے ہیں آج ان کی وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ وہ قریش کے ساتھ کیا معاملہ کریں۔رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا کہ ابوسفیان، سعد نے غلط کہا ہے۔آج رحم کا دن ہے۔آج اللہ تعالیٰ قریش اور خانہ کعبہ کو عزت بخشنے والا ہے۔پھر آپ نے ایک آدمی کو سعد کی طرف بھیجوایا اور فرمایا اپنا جھنڈا اپنے بیٹے قیں سو دے دو کہ وہ تمہاری جگہ انصار کے لشکر کا کمانڈر ہو گا۔اس طرح آپ نے جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے بیٹے کو دے دیا۔اس طرح آپ نے مکہ والوں کا دل بھی رکھ لیا اور انصار کے دلوں کو بھی صدمہ پہنچنے سے محفوظ ر کھا اور رسول اللہ صلی علیم کو قیس پر پورا اعتماد تھا جو سعد کے بیٹے تھے کیونکہ قیس نہایت ہی شریف طبیعت کے نوجوان تھے۔سارے قرضداروں کا قرض معاف کر دیا حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں ایسے شریف تھے، ان کی شرافت کا یہ حال تھا کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ان کی وفات کے قریب جب بعض لوگ ان کی عیادت کے لیے آئے اور بعض نہ آئے تو انہوں نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ بعض دوست میرے واقف ہیں اور میری عیادت کے لیے نہیں آئے۔ان کے دوستوں نے کہا کہ آپ بڑے مخیر آدمی ہیں۔قیس بڑے مخیر تھے اور لوگوں کی بڑی مدد کرتے تھے تو آپ ہر شخص کو اس کی تکلیف کے وقت قرضہ دے دیتے ہیں۔کسی نے مانگا قرضہ دے دیا اور شہر کے بہت سے لوگ آپ کے مقروض ہیں اور وہ اس لیے آپ کی عیادت کے لیے نہیں آئے کہ شاید آپ کو ضرورت ہو اس حالت میں اور آپؐ ان سے روپیہ مانگ بیٹھیں۔جو قرض دیا ہوا ہے وہ واپس نہ مانگ لیں۔آپ نے فرمایا او ہو، بڑا افسوس کا اظہار کیا کہ میرے دوستوں کو بلاوجہ ہم تکلیف ہوئی ہے۔ان کو اگر یہ خیال آیا تو میری طرف سے تمام شہر میں منادی کر دو، اعلان کر دو کہ ہر شخص جس پر قیس کا قرضہ ہے وہ اسے معاف ہے۔اس پر کہتے ہیں کہ اس قدر لوگ ان کی عیادت کے لیے آئے کہ ان کے مکان کی سیڑھیاں ٹوٹ گئیں۔1130 غزوہ حنین اور اموال غنیمت کی تقسیم اور انصار کا نصیبہ سمجھ غزوہ حنین جس کا دوسر انام غزوہ ہوازن بھی ہے، حسین مکہ مکرمہ اور طائف کے در میان مکہ سے تیس میل کے فاصلہ پر واقع ایک گھائی ہے۔غزوۂ حسنین شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد ہوا تھا۔جو اموالِ غنیمت اس جنگ میں حاصل ہوئے وہ نبی کریم صلی سلیم نے مہاجرین میں تقسیم کر دیے۔انصار نے