اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 478
اصحاب بدر جلد 4 جنگ خندق اور بنو قریظہ کی غداری 478 غزوہ خندق کے حالات بیان کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں قبیلہ بنو قریظہ کی غداری کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ابو سفیان نے یہ چال چلی کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہودی رئیس حیی بن اخطب کو یہ ہدایت دی کہ وہ رات کی تاریکی کے پردے میں بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف جاوے اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے ساتھ مل کر بنو قریظہ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے۔چنانچہ حیی بن اخطب موقعہ لگا کر کعب کے مکان پر پہنچا۔شروع شروع میں تو کعب نے اس کی بات سننے سے انکار کیا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ہمارے عہد و پیمان ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیشہ اپنے عہد و پیمان کو وفاداری کے ساتھ نبھایا ہے۔اس لیے میں اس سے غداری نہیں کر سکتا مگر محیی نے اسے ایسے سبز باغ دکھائے اور اسلام کی عنقریب تباہی کا ایسا یقین دلایا اور اپنے اس عہد کو کہ جب تک ہم اسلام کو مٹانہ لیں گے مدینہ سے واپس نہیں جائیں گے اس شد و مد سے بیان کیا کہ بالآخر وہ راضی ہو گیا اور اس طرح بنو قریظہ کی طاقت کا وزن بھی اس پلڑے کے وزن میں آکر شامل ہو گیا۔"جو ملانے آیا تھا باہر سے " جو پہلے سے ہی بہت جھکا ہوا تھا " یعنی پہلے ہی ان میں طاقت تھی۔دنیاوی طاقت ان کے پاس پہلے ہی بہت تھی۔" محضرت علی الی یکم کو جب بنو قریظہ کی اس خطر ناک غداری کا علم ہوا تو آپ نے پہلے تو دو تین دفعہ خفیہ خفیہ زبیر بن العوام کو دریافت حالات کے لیے بھیجا اور پھر باضابطہ طور پر قبیلہ اوس و خزرج کے رئیس سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور بعض دوسرے با اثر صحابہ کو ایک وفد کے طور پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو یہ تاکید فرمائی کہ اگر کوئی تشویشناک خبر ہو تو واپس آکر اس کا بر ملا اظہار نہ کریں بلکہ اشارہ کنایہ سے کام لیں تاکہ لوگوں میں تشویش نہ پیدا ہو۔جب یہ لوگ بنو قریظہ کے مساکن میں پہنچے اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے پاس گئے تو وہ بد بخت ان کو نہایت مغرورانہ انداز سے ملا اور سعدین " یعنی دونوں سعد جو تھے ان " کی طرف سے معاہدہ کا ذکر ہونے پر وہ اور اس کے قبیلہ کے لوگ بگڑ کر بولے کہ 'جاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔یہ الفاظ سن کر صحابہ کا یہ وفد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ نے آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہو کر مناسب طریق پر آنحضرت صلی علیکم کو حالات سے اطلاع دی۔" 1126 بہر حال پھر جو بھی ان کے ساتھ جنگ تھی یا سزا ملنی تھی وہ جاری رہی۔غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حضرت سعد بن عبادہؓ نے کئی اونٹوں پر کھجور میں لاد کر رسول اللہ صلی علی نام اور مسلمانوں کے لیے بھیجیں جو ان سب کا کھانا تھا۔اس وقت رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ کھجور کیا ہی اچھا کھانا ہے۔1127 غزوہ موتہ جو جمادی الاولی سنہ آٹھ ہجری میں ہوئی۔اس میں حضرت زید شہید ہو گئے تو نبی کریم صلی الیکم ان کے اہل خانہ کے پاس تعزیت کے لیے گئے تو ان کی بیٹی کرب اور تکلیف کے باعث روتے ہوئے رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس آئی۔اس پر آپ بھی بہت زیادہ رونے لگے۔اس پر حضرت سعد بن