اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 33

اصحاب بدر جلد 4 33 بلکہ عید کی نماز سے پہلے قربانی کرناوہ تو اس طرح ہی ہے جس طرح گوشت کھانے کے لئے بکری ذبیح کرلی۔اس پر حضرت ابو بزدہ بن بیار اٹھے (جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ) اور انہیں کہا یار سول اللہ ! میں نے تو نماز کے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے اور میں یہ سمجھا تھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا ہے۔اس لئے میں نے جلدی کی، خود بھی کھایا اور اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: یہ بکری تو گوشت ہی کے لئے ہوئی۔یہ تمہاری قربانی نہیں ہے۔اس پر حضرت ابو بردہ نے کہا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیاں یعنی بکری کے مادہ بچے ہیں اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہیں یعنی کہ اچھی پلی ہوئی ہیں اور گو ایک سال کی ہیں لیکن دو بکریوں کی نسبت سے زیادہ بہتر ہیں، موٹی تازی ہیں۔اگر میں یہ قربانی کر دوں تو کیا میری طرف سے کافی ہو گا؟ آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ ہاں کر دو لیکن تمہارے بعد کسی کو کافی نہیں ہو گا۔90 تمہیں تو یہ اجازت ہے لیکن تمہارے بعد اور کسی کو اجازت نہیں۔قربانی کے لئے بکرے کی عمر کتنی ہونی چاہیے دوسری احادیث بھی یہی بتاتی ہیں کہ ایک تو یہ کہ عید کے بعد قربانی کی جائے اور دوسرے بکری کی قربانی کی ایک عمر ہوتی ہے وہ ہونی چاہئے۔بہر حال یہ جو آپ نے فرمایا کہ تمہارے بعد کسی کو کافی نہیں ہے۔اس بارے میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں سوال ہوا کہ قربانی کے بکرے کی عمر کیا ہونی چاہئے تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل حضرت مولانا نورالدین وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان کو فرمایا کہ آپ جواب دیں۔تو انہوں نے عرض کیا کہ اہل حدیث کے نزدیک دو سال کا ہونا ضروری ہے۔91 یا ہمارے ملکوں میں یہ رواج ہے کہ وہ کہتے ہیں دوند ا ہو نا ضروری ہے۔سامنے کے دو بڑے دانت نکلے ہونے چاہئیں۔تو بہر حال اس وقت آنحضرت صلی یہ کم نے حضرت ابو بزدہ کو جو فرمایا کہ تمہاری قربانی تو میں اس ایک سال کے پٹھے کی قبول کرتا ہوں لیکن آئندہ کے لئے اور کسی کے لئے نہیں ہے۔بلکہ جوان بکری یا بکر اہونا چاہئے اور یہی طریق جماعت میں رائج ہے یا ہمارے فتوے میں ہے جیسا کہ میں نے کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔92 14 نام و نسب و کنیت حضرت ابو حذيفه بن عتبه حضرت ابوحذیفه بن عُتبہ ان کی کنیت ابوحذیفہ تھی۔ان کا نام هُشَیم یا هَاشِم یا قَيْش، چشل، عسل اور مقسّم بیان کیا جاتا ہے۔آپ کی والدہ اُمّد صفوان تھیں۔ان کا نام فاطمہ بنت صَفْوَان