اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 32
اصحاب بدر جلد 4 32 جنگ بدر میں شمولیت کا جوش و جذبہ حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی ال کلیم نے غزوہ بدر کے لئے بدر کی طرف کوچ کا ارادہ کیا تو حضرت ابو امامہ بھی آپ سی ایم کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے۔اس پر ان کے ماموں حضرت ابوبز ده بن نیار نے کہا کہ تم اپنی ماں کی خدمت گزاری کے لئے رک جاؤ۔ماں بیمار تھی ان سے کہا تم رک جاؤ۔حضرت ابو امامہ نے کہا، ان میں بھی جوش تھا کہ اسلام کے خلاف حملہ ہو رہا ہے تو میں بھی جاؤں۔انہوں نے کہا کہ وہ آپ کی بھی بہن ہیں۔مجھے جو کہہ رہے ہیں تو آپ رک جائیں۔جب یہ معاملہ حضور صلی ایم کے سامنے پیش ہوا تو آنحضرت صلی علیہ یکم نے حضرت ابو امامہ کو رکنے کا حکم دیا یعنی بیٹے کو اور حضرت ابو بُزدہ لشکر کے ساتھ گئے۔جب رسول اللہ صلی می کنم غزوہ سے واپس آئے تو حضرت ابو امامہ کی والدہ فوت ہو چکی تھیں۔رسول اللہ صلی علیم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔86 مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے ایک حضرت ابوبردہ کا غزوۂ احد کے دن مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔ایک گھوڑار سول کریم صلی نیم کے پاس تھا 87 جس کا نام الشعب تھا اور اور دوسرا گھوڑا حضرت ابوبردہ کے پاس تھا جس کا نام ملا وخ ، تھا۔حضرت ابو بردہ بن نیار بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیکم کچھ قبائل کے پاس تشریف لے گئے۔اُن کے حق میں دعا کی لیکن ایک قبیلے کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کے پاس تشریف نہیں لے کے گئے۔اس پر یہ بات اس قبیلے والوں کو بڑی گراں گزری کہ کیا وجہ ہے؟ اس پر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے مال کی تلاشی لی تو اس کی چادر میں سے ایک ہار نکلا جو اس نے خیانت کرتے ہوئے لے لیا تھا۔پھر ان لوگوں نے وہ ہار واپس کیا تو آپ صلی علیکم ان کے پاس بھی تشریف لے گئے اور ان لوگوں کے حق میں بھی دعا کی۔88 وفات حضرت ابو بزدہ حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل رہے۔آپ کی وفات حضرت معاویہؓ کے ابتدائی دور میں ہوئی۔ان کی وفات کے سال کے بارہ میں مختلف روایات ہیں۔ایک روایت کے مطابق آپ کی وفات 41 ہجری میں ہوئی جبکہ دوسری روایات میں 42 ہجری اور 45 ہجری کا ذکر بھی ملتا ہے۔89 عید الاضحیہ اور قربانی حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی یوم عید الاضحیہ کے دن نماز کے بعد ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا جس نے ہماری نماز جیسی نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی تو اس نے ٹھیک قربانی کی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو وہ بکری گوشت ہی کے لئے ہوئی۔یعنی یہ قربانی نہیں ہے۔