اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 463
تاب بدر جلد 4 463 سمجھوتہ ہوا ہے۔یہ کیا معاملہ ہے؟ اوس اور خزرج میں سے جو لوگ بت پرست تھے ان کو چونکہ اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں تھی وہ سخت حیران ہوئے اور صاف انکار کیا کہ قطعاً کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔عبد اللہ بن اُبی بن سکول بھی جو بعد میں منافقین مدینہ کا سردار بنا وہ بھی اس گروہ میں تھا۔اس نے کہا کہ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔بھلا یہ ممکن ہے کہ اہل بیثرب کوئی اہم معاملہ طے کریں اور مجھے اس کی اطلاع نہ ہو ؟ غرض اس طرح قریش کا شک رفع ہوا اور وہ واپس چلے آئے اور اس کے تھوڑی دیر بعد ہی انصار بھی واپس یثرب کی طرف کوچ کر گئے لیکن ان کے کوچ کر جانے کے بعد قریش کو کسی طرح اس خبر کی تصدیق ہو گئی کہ واقعی اہل یثرب نے آنحضرت صلی اللہ نام کے ساتھ کوئی عہد و پیمان کیا ہے جس پر ان میں سے بعض آدمیوں نے اہل یثرب کا پیچھا کیا۔قافلہ تو نکل گیا تھا مگر سعد بن عبادہ کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے ان کو یہ لوگ پکڑ لائے اور مکہ کے پتھر یلے میدان میں لا کر خوب زدو کوب کیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر ادھر ادھر گھسیٹا۔آخر جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب کو جو سعد کے واقف تھے انہیں اطلاع ہوئی تو انہوں نے ان کو ظالم قریش کے ہاتھ سے چھڑایا۔بارہ نقیبوں میں سے ایک 1090 1089 حضرت سعد بن عبادہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعے پر بنائے جانے والے بارہ نقباء میں سے ایک تھے۔ان کے بارے میں سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں بیان کیا ہے کہ " قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے اور تمام قبیلہ خزرج کے رئیس تھے اور آنحضرت صلی یہ کام کے عہد مبارک میں ممتاز ترین انصار میں شمار ہوتے تھے۔حتی کہ آنحضرت کی وفات پر بعض انصار نے انہی کو خلافت کے لیے پیش کیا تھا۔" یعنی انصار میں سے جو نام پیش ہوا تھا وہ ان کا نام تھا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔" 1091 رض 1092 " حضرت سعد بن عبادہ، مُنذر بن عمرو اور ابو دجانہ ، یہ تین اشخاص تھے انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان سب نے اپنے قبیلہ بنو ساعدہ کے بت توڑ ڈالے۔2 ہجرت مدینہ کے وقت رسول اللہ صلی علیکم جب بنو ساعدہ کے گھروں کے پاس سے گزرے تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت منذد بن عمرو اور حضرت ابودجانہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ہمارے پاس عزت ہے۔دولت، قوت اور مضبوطی ہے۔حضرت سعد بن عبادہ نے یہ بھی عرض کیا کہ یارسول اللہ میری قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کے کھجوروں کے باغات مجھ سے زیادہ ہوں اور اس کے کنویں مجھ سے زیادہ ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ دولت، قوت اور کثیر تعداد بھی ہو۔اس پر آنحضرت صلی للی یم نے فرمایا اے ابو ثابت ! اس اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو، یہ مامور ہے۔3 1093