اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 431

431 تاب بدر جلد 4 لیکن آخر وہی ہوا جو انہوں نے کہا تھا اور چند سال کے اندر اندر سیارا ایران مسلمانوں کے ماتحت آگیا۔یہ عظیم الشان تغیر مسلمانوں میں کیوں پیدا ہوا ؟ اس لیے کہ قرآنی تعلیم نے ان کے اخلاق، ان کی عادات میں ایک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔ان کی سفلی زندگی پر اس نے ایک موت طاری کر دی تھی اور انہیں بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر لا کر کھڑا کر دیا تھا۔اور اس کے نتیجہ میں پھر وہ دنیا میں اسلام پھیلانے والے بنے اور اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے حقیقی مسلمان بنانے والے بنے اور کوئی خوف اور خطرہ کسی طاقت کا ان کو مرعوب نہیں کر سکا۔1023 ابو محجن ثقفی کی شجاعت جنگ کے دوران حضرت سعد کی اہلیہ حضرت سلمیٰ بنت حفصہ نے دیکھا کہ ایک قیدی جو کہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا بڑی حسرت سے اس جنگ میں حصہ لینے کا خواہش مند تھا۔اس کا نام ابو منجن ثقفی تھا جسے حضرت عمر نے شراب پینے پر جلا وطنی کی سزا دی تھی جو یہاں پہنچا۔یہاں پہنچنے کے بعد اس نے پھر شراب پی جس کی وجہ سے حضرت سعد نے اسے کوڑوں کی سزا دی اور زنجیر پہنا دی۔ابو محجن نے حضرت سعد کی لونڈی زھراء سے درخواست کی کہ میری زنجیریں کھول دو کہ میں جنگ میں شامل ہو سکوں اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ! اگر میں زندہ بچ گیا تو واپس آکر بیڑیاں پہن لوں گا۔لونڈی نے اس کی بات مان لی اور زنجیر میں کھول دیں۔ابو محجن نے حضرت سعد کے گھوڑے پر سوار ہو کر میدان جنگ کا رح کیا اور دشمنوں کی صفوں میں گھس گیا اور سیدھے جا کر سفید بڑے ہاتھی پر حملہ کیا۔حضرت سعدیہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ گھوڑا تو میرا ہے لیکن اس پر سوار ابو محجن ثَقفی معلوم ہوتا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا تھا حضرت سعد بیماری کی وجہ سے اس جنگ میں براہ راست شریک نو نہیں ہو سکے تھے اور دور سے نگرانی کر رہے تھے۔بہر حال لڑائی تین دن تک جاری رہی۔لڑائی جب ختم ہوئی تو ابو محجن ثقفی نے واپس آکر اپنی زنجیریں پہن لیں۔حضرت سعد نے ابو منجن کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اگر تم نے آئندہ شراب پی تو میں تمہیں بہت سخت سزا دوں گا۔ابو محجن نے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی شراب نہیں پیے گا۔ایک دوسری جگہ یہ بیان ہے کہ حضرت سعد نے یہ ماجر احضرت عمرؓ کو لکھا جس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر یہ آئندہ شراب سے توبہ کرلے تو اسے سزا نہ دی جائے۔اس پر ابو منجن نے آئندہ تخفي۔شراب نہ پینے کی قسم کھائی جس پر حضرت سعد نے اسے آزاد کر دیا۔1024 پہلے تو وہاں ذکر ہے کہ لونڈی نے چھوڑا تھا لیکن اس واقعے کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے یوں بیان فرمائی ہے۔آپ نے اس طرح لکھا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رسول کریم صلی الظالم کے خاص صحابہ میں سے تھے۔حضرت عمر نے انہیں اپنے زمانہ خلافت میں ایرانی فوج کے مقابلہ میں اسلامی فوج کا کمانڈر بنایا تھا۔اتفاقاً انہیں ران پر ایک پھوڑا نکل آیا جسے ہمارے ہاں گھمبیر کہتے ہیں وہ لمبے عرصہ تک چلتا چلا گیا۔بہتیر اعلاج کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔آخر انہوں نے خیال کیا کہ اگر میں چار پائی پر پڑار ہا اور فوج نے دیکھا کہ میں جو اُن کا کمانڈر ہوں ساتھ نہیں ہوں تو فوج بد دل ہو جائے گی۔چنانچہ انہوں نے ایک