اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 421

اصحاب بدر جلد 4 421 کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے تاکہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے میں آسانی ہو اور اس پارٹی پر آپ صلی للی یکم نے اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن جحش کو امیر مقرر فرمایا۔آپ نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کو بھی یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اور کس غرض سے بھیجا جارہا ہے بلکہ چلتے ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک سر بمہر خط دے دیا ،scaled خط تھا اور فرمایا کہ اس خط میں تمہارے لیے ہدایات درج ہیں۔جب تم مدینہ سے دو دن کا سفر طے کر لو تو پھر اس خط کو کھول کر اس کی ہدایات کے مطابق عمل کرنا۔بہر حال آخر دو دن کی مسافت کے بعد آنحضرت صلی الیم کے فرمان کو، اس خط کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان وادی تختہ میں جاؤ اور وہاں جا کر قریش کے حالات کا علم لو اور پھر ہمیں اطلاع کر دو۔آپ نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھی تھی کہ اس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگر تمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متامل ہو اور واپس چلا آنا چاہے تو اسے واپس آنے کی اجازت دے دو۔عبد اللہ نے آپ کی یہ ہدایت اپنے ساتھیوں کو دی اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم بخوشی اس خدمت کے لیے حاضر ہیں۔کوئی واپس نہیں جائے گا۔اس کے بعد یہ جماعت وادی نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔حضرت سعد اور ان کے ساتھی کا اونٹ کھو جانا اور مار گولیس کا اعتراض راستے میں سعد بن ابی وقاص اور عُتبہ بن غزوان کا اونٹ کہیں کھو گیا اور وہ اس کو تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکا۔یہ جو آٹھ آدمیوں کی پارٹی تھی اب باقی یہ صرف چھ رہ گئے۔یہ چلتے رہے۔اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مستشرق مسٹر مار گولیس کا ذکر کیا ہے کہ وہ اپنی روایت کے مطابق شبہات پیدا کرنے کے لیے حضرت سعد بن ابی وقاص اور ان کے ساتھی کے بارے میں لکھتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور عقبہ نے جان بوجھ کر اپنا اونٹ چھوڑ دیا تھا اور اس بہانہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ان جاں شارانِ اسلام پر، جن کی زندگی کا ایک ایک واقعہ ان کی شجاعت اور فدائیت پر شاہد ہے اور جن میں سے ایک غزوہ بئر معونہ میں کفار کے ہاتھوں شہید ہوا اور دوسر اکئی خطر ناک معرکوں میں نمایاں حصہ لے کر بالآخر عراق کا فاتح بنا، اس قسم کا شبہ کرنا اور شبہ بھی محض اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر کرنا یہ مسٹر مار گولیس ہی کا حصہ ہے۔اور پھر لطف یہ ہے کہ مار گولیس صاحب اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر لکھی ہے۔حرمت والے مہینہ میں قتل اور اس کا پس منظر بہر حال مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت نخلہ پہنچی اور معلومات جو لینی تھیں ان کے لیے اپنے کام میں مصروف ہو گئی اور ان میں سے بعض نے اخفائے راز کے لیے اپنے سر کے بال منڈوا دیے تاکہ را بگیر وغیرہ ان کو عمرے کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں۔لیکن ابھی ان کو وہاں پہنچے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اچانک وہاں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ آپہنچا جو طائف سے مکہ کی طرف