اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 408

اصحاب بدر جلد 4 408 دوران جب آپ کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو آپ نے اپنے بائیں ہاتھ میں جھنڈا تھامے رکھا اور جب بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا تو جھنڈے کو گردن میں دبالیا اور یہ پڑھنے لگے کہ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ (ال عمران : 145) وَكَاين مِنْ نَّبِي قَتَلَ مَعَهُ رِبيُّونَ كَثِير (ال عمران : 147) یعنی محمد صلی اللہ علیہ محض اللہ کے ایک رسول ہیں اور کتنے ہی نبی تھے جن کے ساتھ مل کر بہت سے ربانی لوگوں نے قتال کیا۔جب حضرت سالم گر گئے تو ساتھیوں سے پوچھا ابوحذیفہ کا کیا حال ہے۔لوگوں نے جواب دیا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں۔پھر ایک اور آدمی کا نام لے کر پوچھا کہ اس نے کیا کیا تو جواب ملا کہ وہ بھی شہید ہو گئے ہیں۔اس پر حضرت سالم نے کہا کہ مجھے ان دونوں کے درمیان میں لٹا دو۔جب آپ شہید ہو گئے تو بعد میں حضرت عمرؓ نے ان کی میراث تبيته بنت يعار کے پاس بھیجی۔انہوں نے حضرت سالم کو آزاد کیا تھا لیکن انہوں نے اس میراث کو قبول نہ کیا اور ساتھ یہ کہا کہ میں نے ان کو سائبہ بنا کر یعنی محض خدا کی راہ میں آزاد کیا تھا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کی میراث کو بیت المال میں جمع کروا دیا۔محمد بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں جب مسلمان منتشر ہو گئے تو حضرت سالم نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ کے ساتھ اس طرح نہیں کیا کرتے تھے یعنی بھاگ نہیں جایا کرتے تھے۔انہوں نے اپنے لیے ایک گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہو گئے۔اس دن آپ کے پاس مہاجرین کا جھنڈا تھا۔اس کے بعد آپ بہادری سے لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔آپ جنگ یمامہ جو 12 ہجری میں ہوئی تھی اس میں شہید ہوئے اور یہ واقعہ حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں ہوا۔طبقات الکبریٰ کا یہ حوالہ ہے۔حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ جب حضرت سالم شہید ہوئے تو لوگ کہتے تھے گویا قرآن کا ایک چوتھائی حصہ چلا گیا۔8 یعنی جن چار علماء کا نام آنحضرت صلی علیہ ہم نے لیا تھا کہ ان سے قرآن سیکھو، ان میں سے ایک چلا گیا۔249 تصلى نام و نسب 948 946 125 حضرت سائب بن عثمان " 947 حضرت سائب بن عثمان ان کا تعلق قبیلہ بنو مجمیخ سے تھا اور آپ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔آپ کی والدہ کا نام حضرت خولہ بنت حکیم تھا اور ابتدائے اسلام میں ہی، شروع میں ہی آپے مسلمان ہوئے تھے۔حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت حضرت سائب بن عثمان اپنے والد اور چچا حضرت قدامہ کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ