اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 406
اصحاب بدر جلد 4 406 و قار اور سکینت تھی۔کوئی گھبراہٹ نہیں تھی اور وہ پیش قدمی کر رہے تھے۔میں نے کہا کہ میں اس نیک آدمی کے پیچھے چلوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں پہنچ گئے اور آپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔آنحضرت صلی اللہ کی ناراضگی کی حالت میں نکلے اور فرمانے لگے کہ لوگو! یہ کیسی گھبراہٹ اور کیسا خوف ہے ! کیا تم اس بات سے عاجز آگئے کہ جیسی ہمت ان دونوں مومنوں نے دکھائی ہے تم بھی دکھاؤ۔944 کوئی گھبراہٹ نہیں ہونی چاہیے۔جس طرح کہ حضرت سالِھ اور ساتھ ان کے یہ تھے جنہوں نے عہد کیا اور بغیر کسی گھبراہٹ کے اس کڑے وقت میں بھی با قاعدہ ڈٹے رہے۔فتح مکہ کے بعد تبلیغی مہمات ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے مواقع کے بعد رسول اللہ صل ال ولم نے مکہ مکرمہ کے ارد گرد علاقوں میں چھوٹے چھوٹے لشکر بھیجے تا کہ وہ ان قبائل کو اسلام کی طرف بلائیں لیکن ان لشکروں کو جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔تبلیغ کے لیے بھیجا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ جنگ نہیں کرنی۔اے اللہ ! جو خالد بن ولید نے کیا ہے تیرے حضور بر آت کا اظہار کرتاہوں آنحضرت صلی الم نے حضرت خالد بن ولید کو قبیلہ بنو جذیمہ کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا۔جب انہوں نے حضرت خالد کو دیکھا تو ہتھیار اٹھا لیے۔حضرت خالد نے ان سے کہا لوگ مسلمان ہو چکے ہیں، اب ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ان میں سے ایک شخص بخدھ نے کہا کہ میں ہر گز ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔یہ خالد ہے۔مجھے اعتبار نہیں۔اللہ کی قسم !ہتھیار ڈالنے کے بعد قید ہونا ہے اور قید ہونے کے بعد گردن اڑایا جاتا ہے۔اس کی قوم کے بعض افراد نے اسے پکڑ لیا اور کہا اے بخدم ! کیا تو چاہتا ہے کہ ہمارا خون بہایا جائے۔یقیناً لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور جنگ ختم ہو چکی ہے۔پھر انہوں نے اس سے ہتھیار چھین لیے اور خود بھی ہتھیار ڈال دیے۔جب انہوں نے ہتھیار رکھ دیے تو اس کے بعد پھر حضرت خالد نے ان میں سے بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو قیدی بنالیا اور ہم میں سے ہر آدمی کو اس کا قیدی سپر د کر دیا اور پھر اگلے دن یہ حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔حضرت سالم مولی ابی حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا خدا کی قسم ! میں اپنے قیدیوں کو قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی ایسا کرے گا۔ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ان میں سے نکل کر رسول اللہ صلی الیکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام واقعہ بیان کر دیا۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا کسی نے خالد کے اس طرزِ عمل کو نا پسند بھی کیا ؟ آنحضرت صلیالی تم کو پسند نہیں آیا کہ اس طرح ہو۔انہوں نے پوچھانا پسند کیا تھا؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں سفید رنگ کے ایک میانہ قد شخص نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔خالد نے انہیں ڈانٹا تو وہ