اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 26
اصحاب بدر جلد 4 26 دیکھا۔پسند والی بات کو نہیں دیکھا۔اس پر حضرت ابو ایوب انصاری نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الی یکم کو فرماتے سنا ہے کہ تم بعد میں ضرور ترجیح دیکھو گے یعنی تمہاری ترجیحات بدل جائیں گی۔امیر معاویہ نے کہا تو آپ صلی یہ ہم نے تم لوگوں کو کس چیز کا ارشاد فرمایا تھا۔جب رسول پاک نے یہ کہا تو پھر آپ نے کیا فرمایا تھا ؟ حضرت ابو ایوب نے کہا کہ آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم لوگ صبر کرنا جب ایسی ترجیحات بدل جائیں جہاں تم لوگوں کی بات نہ مانی جائے۔جو پسندیدہ بات نہ سنی جائے تو پھر صبر کرنا۔اس پر امیر معاویہ نے کہا پھر تم لوگ صبر کرو۔جب آنحضرت صلی ﷺ نے فرمایا کہ صبر کرنا تو پھر صبر کرو۔حضرت ابوایوب نے کہا اللہ کی قسم ! میں تم سے کبھی کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔پھر حضرت ابو ایوب بصرہ چلے گئے اور حضرت ابن عباس کے ہاں قیام کیا۔حضرت ابن عباس نے ان کے لیے اپنا گھر خالی کیا اور کہا میں آپ کے ساتھ ضرور ویسا ہی سلوک کروں گا جیسا آپ نے رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ کیا تھا۔جب آپ نے رسول اللہ کی مہمان نوازی کی تھی ویسی مہمان نوازی میں آپ کی کروں گا۔حضرت ابن عباس نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا تو وہ باہر چلے گئے اور حضرت ابن عباس نے کہا گھر میں جو کچھ ہے وہ سب آپ کا ہے اور انہوں نے حضرت ابو ایوب کو چالیس ہزار درہم اور ہمیں غلام دیے۔انہوں نے اپنا اور انتظام کر لیا اور ان کو نہ صرف گھر دیابلکہ چالیس ہزار درہم بھی دیے اور میں غلام بھی دیے۔72 ایک آیت کی تفسیر حضرت مصلح موعود وَ أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَاحْسِنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِین کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ : اس آیت کا مفہوم سمجھنے میں لوگوں کو بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔“ وَ انْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيِّدِ يَكُم إِلَى التَّهْلُكَةِ وَ أَحْسِنُوا ۚ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ” انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاں کوئی تکلیف پیش آتی ہے وہ فورا کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والی بات ہے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وَلَا تُلْقُوا بِايْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔”ہم اس میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں حالانکہ اس کے ہر گز یہ معنی نہیں کہ جہاں موت کا ڈر ہو وہاں سے مسلمان کو بھاگ جانا چاہیے اور اسے بزدلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب دشمن سے لڑائیاں ہو رہی ہوں تو اس وقت اپنے مالوں کو خوب خرچ کرو۔اگر تم اپنے اموال کو روک لو گے تو اپنے ہاتھوں اپنی موت کا سامان پیدا کرو گے۔چنانچہ احادیث میں حضرت ابو ایوب انصاری سے مروی ہے کہ انہوں نے اس وقت جبکہ وہ قسطنطنیہ فتح کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے کہا کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور پھر انہوں نے بتایا کہ پہلے تو ہم خدا تعالیٰ کے رستہ میں اپنے اموال خرچ کیا کرتے تھے لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنے دین کو تقویت اور عزت دی اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو ا تو قُلْنَا هَلْ نُقِيْمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُهَا۔۔۔۔