اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 388

اصحاب بدر جلد 4 388 یہ تھی کہ آنحضرت صلی علی نام کے ایک صحابی جن کا نام دحیہ کلبی تھا، شام کی طرف سے قیصر روم کو مل کر واپس آرہے تھے اور ان کے ساتھ کچھ سامان بھی تھا جو کچھ تو قیصر کی طرف سے خلعت وغیرہ کی صورت میں تھا اور کچھ تجارتی سامان تھا۔جب دخیہ بنو جُذام کے علاقہ کے پاس سے گزرے تو اس قبیلہ کے رئیس هنيد بن عَارِض نے اپنے قبیلہ میں سے ایک پارٹی کو اپنے ساتھ لے کر دِخیہ پر حملہ کر دیا اور سارا سامان چھین لیا، تجارتی سامان بھی اور جو کچھ قیصر نے دیا تھا۔یہاں تک زیادتی کی کہ دحیہ کے جسم پر بھی سوائے پھٹے ہوئے کپڑوں کے کوئی چیز نہیں چھوڑی۔جب اس حملہ کا علم بن ضبیب کو ہو اجو قبیلہ بنو جُذام ہی کی ایک شاخ تھے اور ان میں سے بعض لوگ مسلمان ہو چکے تھے تو انہوں نے بنو جُذام کی اس پارٹی کا پیچھا کر کے ان سے لوٹا ہوا سامان واپس چھین لیا اور دخیرہ اس سامان کو لے کر مدینہ واپس پہنچے جو انحضرت صلی علی علم کے صحابی تھے۔یہاں آکر وخیہ نے آنحضرت صلی علی کیم کو سارے حالات سے اطلاع دی جس پر آپ صلی الیم نے زید بن حارثہ کو روانہ فرمایا اور دحیہ کو بھی زیڈ کے ساتھ بھجوا دیا۔زید کا دستہ بڑی ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ دن کو چھپتا تھا اور رات کو سفر کرتا تھا اور یہ سفر کرتے ہوئے حسٹی کی طرف بڑھتے گئے اور عین صبح کے وقت بنو جُذام کے لوگوں کو جا پکڑا۔بنو جُذام نے مقابلہ کیا، با قاعدہ جنگ ہوئی مگر مسلمانوں کے اچانک حملہ کے سامنے ان کے پاؤں جم نہ سکے اور تھوڑے سے مقابلہ کے بعد وہ بھاگ گئے اور میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا اور زید بن حارثہ بہت ساسامان اور مال مویشی اور ایک سو کے قریب قیدی پکڑ کر واپس آگئے۔مگر ابھی زید مدینہ میں پہنچے نہیں تھے کہ قبیلہ بنو طبیب کے لوگوں کو جو بنو جُذام کی شاخ تھے زید کی اس مہم کی خبر پہنچ گئی اور وہ اپنے رئیس رفاعہ بن زید کی معیت میں آنحضرت صلی غیر کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہاں جا کے کہا کہ یارسول اللہ ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں ، جیسا کہ ذکر ہوا ان لوگوں نے تو سامان چھڑایا تھا۔اور ہماری بقیہ قوم کے لیے امن کی تحریر ہو چکی ہے، معاہدہ ہو چکا ہے کہ ان کو امن بھی ملے گا تو پھر ہمارے قبیلہ کو اس حملہ میں کیوں شامل کیا گیا ہے۔اس حملے میں ان کے قبیلے کے کچھ لوگ بھی شامل ہو گئے تھے۔آپ صلی الم نے فرمایا کہ ہاں یہ درست ہے مگر زید کو اس کا علم نہیں تھا اور پھر جو لوگ اس موقع پر مارے گئے تھے ان کے متعلق آپ صلی للہ ہم نے بار بار افسوس کا اظہار کیا۔اس پر رفاعہ کے ساتھی ابوزید نے کہا یار سول اللہ ! جو لوگ مارے گئے ہیں ان کے متعلق ہمارا کوئی مطالبہ نہیں یہ ایک غلط فہمی کا حادثہ تھا جو ہو گیا کہ ہمارے جو معاہدے والے لوگ تھے جنگ میں ان کو بھی ملوث کر لیا گیا مگر جو لوگ زندہ ہیں اور جو ساز وسامان زیڈ نے ہمارے قبیلہ سے پکڑا ہے وہ ہمیں واپس مل جانا چاہیے۔آپ صلی نیلم نے فرمایا کہ ہاں یہ بالکل درست ہے اور آپ نے فوراً حضرت علیؓ کو زیڈ کی طرف روانہ فرمایا اور بطور نشانی کے انہیں اپنی تلوار عطا فرمائی اور زید کو کہلا بھیجا کہ اس قبیلہ کے جو قیدی اور اموال پکڑے گئے ہیں، جو بھی مال تم نے پکڑا ہے وہ چھوڑ دو۔زید نے یہ حکم پاتے ہی فوراً سارے قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ان کا مال غنیمت بھی انہیں واپس لوٹا دیا۔7 پس یہ آنحضرت ملا لی ایم کا معاہدوں کی پاسداری کا اسوہ تھا۔یہ نہیں کہ پکڑ لیا تو ظلم کرنا ہے بلکہ غلط آپ 897