اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 387
صحاب بدر جلد 4 387 در میان آتے جاتے ہوئے وہ مدینہ کے بالکل قریب سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی طرف سے ہر وقت خطرہ رہتا تھا۔اس کے علاوہ یہ قافلے جہاں جہاں سے گزرتے قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے جاتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں جس کی وجہ سے سارے ملک میں مسلمانوں کے خلاف عداوت کی ایک خطر ناک آگ مشتعل ہو چکی تھی اس لیے ان کی روک تھام ضروری تھی۔بہر حال آنحضرت صلی للہ ہم نے قافلے کی خبر پا کر زید بن حارثہؓ کو اس طرف روانہ فرمایا اور وہ اس ہوشیاری سے گھات لگاتے ہوئے آگے بڑھے کہ کسی کو پتہ نہ لگے اور عیص کے مقام پر قافلے کو جا پکڑا۔عمیص ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے چار دن کی مسافت پر سمندر کی جانب واقع ہے۔چونکہ یہ اچانک حملہ تھا، اہل قافلہ مسلمانوں کے حملہ کی تاب نہ لا سکے اور اپنا سازوسامان چھوڑ کر بھاگ گئے۔زید نے بعض قیدی پکڑ کر اور سامان قافلہ اپنے قبضہ میں لے کر مدینہ کی طرف واپسی کی اور آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔895 سر ایا اور غزوات کی ایک بنیادی وجہ یہ یادرکھنا چاہیے ہر سر یہ یا جو بھی جنگ ہوئی، جو بھی لشکر بھیجا گیا وہ اس لیے کہ کچھ نہ کچھ قافلوں کی طرف سے یہ خبر ہوتی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازشیں کر رہے ہیں یا کوئی منصوبہ بندی کر کے حملوں کی تجویز سوچ رہے ہیں۔طرف مقام کی طرف ایک سریہ پھر حضرت زید بن حارثہؓ کے ایک اور سر یہ جو جمادی الآخرہ سن چھ ہجری میں طرف مقام کی طرف بھیجا گیا تھا اس کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس کا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی ذکر کیا ہے کہ "غزوہ بنو لحیان کے کچھ عرصہ بعد جمادی الآخرہ 16 ہجری میں آنحضرت صلی الیم نے زید بن حارثہ کی کمان میں پندرہ صحابیوں کا ایک دستہ طرف کی جانب روانہ فرمایا جو مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلہ پر واقع تھا اور اس جگہ ان ایام میں بنو ثعلبہ کے لوگ آباد تھے مگر قبل اس کے کہ زید بن حارثہ وہاں پہنچتے اس قبیلہ کے لوگ بر وقت خبر پا کر ادھر اُدھر منتشر ہو گئے اور زید اور ان کے ساتھی چند دن کی غیر حاضری کے بعد " کچھ دن وہاں قیام کیا اور پھر " مدینہ میں واپس لوٹ آئے۔"896 اور کوئی جنگ ونگ نہیں کی ، نہ ان کو تلاش کیا۔سریہ حسمیٰ پھر زید بن حارثہؓ کا ایک اور سریہ ہے جو جمادی الآخرہ سن 16 ہجری میں چشمی کی طرف بھیجا گیا تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ اسی ماہ جمادی الآخرہ میں آنحضرت صلی علیہ ہم نے زید بن حارثہ کو پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ جسمی کی طرف روانہ فرمایا، جو مدینہ کے شمال کی طرف بنو جُذام کا مسکن تھا، وہ وہاں رہتے تھے۔اس مہم کی غرض