اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 385

اصحاب بدر جلد 4 385 طرف جاتے تھے لیکن اب انہوں نے یہ راستہ ترک کر دیا کیونکہ۔اس علاقہ کے قبائل مسلمانوں کے حلیف بن چکے تھے اور قریش کے لیے شرارت کا موقع کم تھا بلکہ ایسے حالات میں وہ اس ساحلی راستے کو خود اپنے لیے خطرے کا موجب سمجھتے تھے۔بہر حال اب انہوں نے اس راستے کو ترک کر کے نجدی راستہ اختیار کر لیاجو عراق کو جاتا تھا اور جس کے آس پاس قریش کے حلیف اور مسلمانوں کے جانی دشمن تھے، پہلے رستے وہ تھے جن سے مسلمانوں کا معاہدہ ہوا تھا اور اس رستے پر جس کو قریش نے اختیار کیا وہاں ان کے اپنے معاہدے والے تھے اور وہ لوگ اور قبائل آباد تھے جو مسلمانوں کے بھی جانی دشمن تھے جو قبائل سُلیم اور غطفان تھے۔چنانچہ جمادی الآخر کے مہینہ میں آنحضرت صلی علیم کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قریش مکہ کا ایک تجارتی قافلہ نجدی راستے سے گزرنے والا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر قریش کے قافلوں کا ساحلی راستے سے گزرنا مسلمانوں کے لیے موجب خطرہ تھا تو مجدی راستے سے ان کا گزر نا ویسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر اندیشہ ناک تھا کیونکہ بر خلاف ساحلی راستے کے اس راستے پر قریش کے حلیف آباد تھے جو قریش ہی کی طرح مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے اور جن کے ساتھ مل کر قریش بڑی آسانی کے ساتھ مدینہ میں خفیہ چھاپہ مار سکتے تھے یا کوئی شرارت کر سکتے تھے اور پھر قریش کو کمزور کرنے اور انہیں صلح جوئی کی طرف مائل کرنے کی غرض کے ماتحت بھی ضروری تھا کہ اس راستے پر بھی ان کے قافلوں کی روک تھام کی جاوے۔اس لیے آنحضرت صلی للہ ہم نے اس خبر کے ملتے ہی اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہؓ کی سرداری میں اپنے صحابہ کا ایک دستہ روانہ فرما دیا۔الله قریش کے اس تجارتی قافلے میں ابو سفیان بن حرب اور صَفْوَان بن أُمَيَّه جیسے رؤساء بھی موجود تھے۔زید نے نہایت چستی اور ہوشیاری سے اپنے فرض کو ادا کیا اور نجد کے مقام قردہ میں ان دشمنانِ اسلام کو جا پکڑا اور اس اچانک حملہ سے گھبرا کر قریش کے لوگ قافلہ کے اموال اور جو بھی ان کا مال تھا اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور زید بن حارثہ اور ان کے ساتھی ایک کثیر مال غنیمت کے ساتھ مدینہ میں کامیاب و کامران واپس آئے۔بعض مورخین نے لکھا ہے کہ قریش کے اس قافلہ کاراہبر ایک فرات نامی شخص تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوا اور مسلمان ہونے پر رہا کر دیا گیا لیکن دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کا جاسوس تھا مگر بعد میں مسلمان ہو کر مدینے میں ہجرت کر کے آگیا۔890 رسول الله صلى الل ولم نے گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ ایک سریے سے مدینہ واپس لوٹے۔اس وقت رسول اللہ صلی علیکم میرے گھر میں تھے۔حضرت زید آئے اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔رسول اللہ صلی یکم نے ہ آپ کا استقبال کیا اور انہیں گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا۔891 شعبان 15 ہجری میں جب رسول کریم صلی علیم نے بنو مصطلق کی طرف روانہ ہونے کی تحریک فرمائی