اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 383

بدر جلد 4 383 کیا۔۔۔صحابہ میں زید بن حارثہ ایک آزاد شدہ غلام تھے مگر انہوں نے اتنی قابلیت پیدا کی کہ آنحضرت صلی الیم نے ان کی قابلیت کی وجہ سے بہت سی اسلامی مہموں میں انہیں امیر العسکر " یعنی پورے لشکر کا امیر " مقرر فرمایا اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابی حتی کہ خالد بن ولید جیسے کامیاب جرنیل بھی ان کی ماتحتی میں رکھے۔88411 حضرت زید غزوہ بدر، احد، خندق، حدیبیہ ، خیبر میں آنحضرت صلی اللہ نام کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت زید امیر مدینہ حضرت زید رسول اللہ صلی علیکم کے ماہر تیر اندازوں میں سے شمار ہوتے تھے۔جب آنحضرت صلی علیکم غزوة مريسيع ( یہ غزوہ بنو مصطلق کا دوسرا نام ہے) جو سیرۃ الحلبیہ کے مطابق شعبان 15 ہجری میں ہوا تھا، اس کے لیے جانے لگے تو آپ نے حضرت زید کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔جس لشکر میں حضرت زید ہوتے وہی امیر لشکر ہوتے حضرت سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علی ظلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی اور نو ایسے سرایا میں شامل ہوا ( وہ جنگیں جن میں آنحضرت صلی للی کم لشکروں میں شامل نہیں ہوئے تھے ) جن میں رسول اللہ صلی علیم نے ہم پر حضرت زید بن حارثہ کو امیر لشکر مقرر کیا تھا۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اہل علم نے زید بن حارثہ کو جب بھی کسی لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا تو ہر دفعہ اس لشکر کا امیر ہی مقرر فرمایا اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر حضرت زید بعد میں بھی زندہ رہتے تو آپ انہی کو امیر مقرر فرماتے۔885 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں غزوہ سفوان جسے غزوہ بدر اولی بھی کہتے ہیں جو جمادی الآخر 2 ہجری میں ہوا۔اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غزوہ عشیرہ کے بعد " ابھی آنحضرت صلی ای کم کو مدینہ میں تشریف لائے دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مکہ کے ایک رئیس گرز بن جابر فهْرِي نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر جو شہر سے صرف تین میل پر تھی اچانک حملہ کیا اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ لوٹ کر چلتا ہوا۔آنحضرت ملی لی ہم کو یہ اطلاع ہوئی تو آپ فوراً زید بن حارثہ کو اپنے پیچھے امیر مقرر کر کے اور مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے اور سفوان تک جو بدر کے پاس ایک جگہ ہے اس کا پیچھا کیا، مگر وہ بیچ کر نکل گیا۔اس غزوہ کو غزوہ بدر الا ولی بھی کہتے ہیں۔88611 غزوة عشیره جس کی پہلے وضاحت کی تھی اور جو غزوۂ عشيرة ہے اس کے بارے میں مختصر بتا دوں کہ جب آنحضرت صلی علیم کو قریش کے بد ارادوں کی خبر ملی تو آپ یہ خبر سن کر مدینہ سے نکلے اور ساحل سمندر کے