اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 366

ناب بدر جلد 4 366 اچھا پھر کوئی حرج نہیں۔بہر حال مطعم کفر کی حالت میں ہی فوت ہوا۔13 یہ بہر حال اس کی ایک نیکی تھی۔ہجرت مدینہ اور مواخات 863 حضرت زید جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ نے حضرت کلثوم بن ھذہ کے پاس قیام کیا جبکہ بعض کے مطابق آپ حضرت سعد بن خَیقہ کے پاس ٹھہرے۔رسول اللہ صلی ٹیم نے آپ کی مؤاخات حضرت اسید بن حضیر " سے کروائی۔بعض نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی الیم نے آپ کی مواخات حضرت حمزہ سے قائم کروائی۔یعنی کہ حضرت حمزہ کو آپ کا بھائی بنایا۔یہی وجہ ہے کہ غزوۂ احد کے دن حضرت حمزہ نے لڑائی کے وقت حضرت زید کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔64 اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں مزید لکھا ہے کہ مدینہ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد آنحضرت علی سلیم نے زید بن حارثہ کو کچھ روپیہ دے کر مکہ روانہ فرمایا جو چند دن میں آپ کے اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر خیریت سے مدینہ پہنچ گئے۔ان کے ساتھ عبد اللہ بن ابی بکر، حضرت ابو بکر کے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے کر مدینہ پہنچ گئے۔5 صلح نامہ حدیبیہ کی تحریر 865 حضرت براء سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی للی کم نے ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے اس بات سے انکار کیا کہ آپ کو مکہ میں داخل ہونے دیں۔آخر آپ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ آپ آئندہ سال عمرے کو آئیں گے اور یہاں مکہ میں تین دن تک ٹھہریں گے۔جب صلح نامہ لکھنے لگے تو یوں لکھا کہ یہ وہ شرطیں ہیں جس پر محمد رسول اللہ صلی علیم نے صلح کی۔مکہ والے کہنے لگے کہ ہم اس چیز کو نہیں مانتے۔اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ کو کبھی نہ روکتے۔کہنے لگے ہمارے نزدیک تو آپ محمد بن عبد اللہ ہیں۔آپ صلی علی ایم نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبد اللہ بھی۔آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ یہاں سے مٹادو۔حضرت علی نے کہا ہر گز نہیں۔اللہ کی قسم ! میں آپ کے خطاب کو کبھی نہیں مٹاؤں گا یعنی کہ اللہ کا رسول۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو خطاب دیا ہے اس کو میں نہیں مٹا سکتا۔رسول اللہ صلی علیم نے ان سے لکھا ہو ا کاغذ لے لیا۔آپ اچھی طرح لکھنا نہیں جانتے تھے۔آپ نے یوں لکھا کہ یہ وہ شرطیں ہیں جو محمد بن عبد اللہ نے ٹھہرائیں۔مکہ میں کوئی ہتھیار نہیں لائیں گے سوائے تلواروں کے ، جو نیاموں میں ہوں گی اور مکہ والوں میں سے کسی کو بھی ساتھ نہیں لے جائیں گے اگر چہ وہ ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی نہیں روکیں گے اگر وہ مکہ میں ٹھہر نا چا ہے۔بہر حال اس معاہدے کے مطابق آپ صلی علیکم آئندہ سال مکہ میں داخل ہوئے اور تین دن کی مدت ختم ہو گئی تو قریش حضرت علی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ