اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 352
تاب بدر جلد 4 352 گئے۔حضرت زبیر کو شہید کرنے کے بعد ابن حجر موز حضرت علیؓ کے پاس حضرت زبیر کا سر اور ان کی تلوار لایا۔حضرت علی نے تلوار لے لی اور کہا کہ یہ وہ تلوار ہے کہ اللہ کی قسم! اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے بے چینی دور ہوئی لیکن اب یہ موت اور فساد کی قتل گاہوں میں ہے۔ابنِ حجر موز نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔دربان نے عرض کی کہ یہ ابن حجر موز جو حضرت زبیر کا قاتل ہے۔دروازے پر کھڑا اجازت طلب کرتا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ابنِ صفیہ، حضرت زبیر کو شہید کرنے والا دوزخ میں داخل ہو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر نبی کے حواری ہیں اور میرا حواری زبیر ہے۔حضرت زبیر وادی سباغ میں دفن کیے گئے۔حضرت علی اور ان کے ساتھی بیٹھ کر آپ پر رونے لگے۔شہادت کے وقت حضرت زبیر کی عمر چونسٹھ سال تھی۔بعض کے نزدیک آپ کی عمر چھیاسٹھ یا ستاسٹھ سال تھی۔عاتکہ بنت زید کے اشعار 830 حضرت عاتکہ بنت زید جو حضرت زبیر بن عوام کی بیوی تھیں ان کے متعلق اہل مدینہ کہا کرتے تھے کہ جو شخص شہادت چاہے وہ عاتکہ بنت زید سے نکاح کر لے۔یہ پہلے عبد اللہ بن ابی بکر کے عقد میں آئیں وہ شہید ہو کر ان سے جدا ہو گئے۔پھر حضرت عمر بن خطاب کے عقد میں آئیں۔وہ بھی شہید ہو کر ان سے جدا ہو گئے۔پھر حضرت زبیر بن عوام کے عقد میں آئیں۔وہ بھی شہید ہو کر ان سے جد اہو گئے۔حضرت زبیر کی شہادت پر حضرت عاتکہ نے یہ اشعار کہے تھے کہ غَدَرَ ابْنُ جُرْمُوزِ بِفَارِسِ بُهْمَةٍ يَوْمَ اللِّقَاءِ وَكَانَ غَيْرَ مُعَرِّدِ يَا عَمْرُ ولَوْ نَبَهْتَهُ لَوَجَدْتَهُ لَا طَائِشَّارَ عِشَ الْجَنَانِ وَلَا الْيَدِ شَلَّتْ يَمِيْنَكَ إِنْ قَتَلْتَ لَمُسْلِمًا حَلَّتْ عَلَيْكَ عُقُوْبَةُ الْمُتَعَمِّدِ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ هَلْ ظَفِرْتَ بِمِثْلِهِ فِيمَنْ مَضَى قِيَمَا تَرُوْحُ وَ تَغْتَدِى كُمْ غَمْرَةٍ قَدْ خَاضَهَا لَمْ يَثْنِهِ عَنْهَا طِرَادُكَ يَا ابْنَ فَقْعِ الْقَرْدَدِ یعنی ابن حجر موز نے جنگ کے دن اس بہادر سوار کے ساتھ دغا کیا حالانکہ وہ بھاگنے والا نہ تھا۔اے عمرو بن جر موز! اگر تو انہیں آگاہ کر دیتا تو انہیں اس حالت میں پاتا کہ وہ نامرد نہ ہوتے جس کا دل اور ہاتھ کانپتا ہو۔تیر اہاتھ شل ہو جائے کہ تو نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا۔تجھ پر قتل عمد کے مر تکب کا عذاب واجب ہو گیا۔تیر ابر اہو اکیا ان لوگوں میں جو اس زمانے میں گزر گئے جس میں تو شام اور صبح کرتا ہے تو نے کبھی ان جیسے کسی اور شخص پر کامیابی پائی ہے۔اے ادنی سی تکلیف کو برداشت نہ کر سکنے والے۔زبیر تو ایسا شخص تھا کہ کتنے ہی سخت حالات ہوں وہ جنگ میں مشغول رہتے تھے اور اے سفید چہرے والے ! تمہاری نیزہ زنی اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی تھی۔831