اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 349
ناب بدر جلد 4 349 جب حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت زبیر کا قرض ادا کر چکے تو حضرت زبیر کی اولا دینے کہا کہ ہم میں ہماری میراث تقسیم کر دو۔اب قرض تو سارے ادا ہو گئے ہیں اب جو وراثت ہے وہ تقسیم کر دو۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم !میں تم میں اس وقت تک تقسیم نہ کروں گا جب تک چار سال زمانہ حج میں منادی نہ کرلوں یعنی چار سال تک ہر حج کے دن پہلے اعلان کروں گا کہ جس کا ز بیر پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے ہم اسے ادا کریں گے اور چار سال تک حج کے موقعے پر منادی کرتے رہے۔جب چار سال گزر گئے تو میراث حضرت زبیر کی اولاد میں تقسیم کر دی۔حضرت زبیر کی چار بیویاں تھیں۔انہوں نے بیوی کے آٹھویں حصے کو چار پر تقسیم کر دیا اور ہر بیوی کو گیارہ لاکھ پہنچے۔پھر بھی جو جو جائیداد باقی رہ گئی تھی اس میں سے ہر کوئی جب تقسیم ہوا تو گیارہ گیارہ لاکھ بیویوں کو بھی مل گیا۔ان کا پورا مال تین کروڑ باون لاکھ تھا۔ایک روایت میں یہ ہے اور سفیان بن عیینہ سے مروی ہے کہ حضرت زبیر کی میراث میں چار کروڑ تقسیم کیے گئے۔ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت زبیر کے ترکہ کی قیمت پانچ کروڑ بیس لاکھ یا پانچ کروڑ دس لاکھ تھی۔اسی طرح عروہ سے مروی ہے کہ حضرت زبیر کی مصر میں کچھ زمینیں تھیں اور اسکندریہ میں کچھ زمینیں تھیں۔کوفے میں کچھ زمینیں تھیں اور بصرے میں مکانات تھے۔ان کی مدینے کی کچھ جائیداد کی آمدنی تھی جو ان کے پاس آتی تھی۔827 بہر حال یہ سارے قرض اتار کے تو پھر ان جائیدادوں میں سے جو باقی جائیدادیں تھیں وہ ان کے ورثاء میں تقسیم کی گئیں۔مُطَرفی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت زبیر سے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! آپ لوگ کس مقصد کی خاطر آئے ہیں۔آپ لوگوں نے ایک خلیفہ کو ضائع کر دیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔اب آپ ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے تھے کہ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً نفال:26) کہ اور اس فتنے سے ڈرو جو محض ان لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ( بلکہ عمومی ہو گا) لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہو گا یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آئے گی۔828 حضرت علی کی خلافت کا انتخاب ، جنگ جمل اور حضرت زبیر کی شہادت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی کی خلافت کے انتخاب کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا واقعہ شہادت ہوا اور وہ صحابہ جو مدینے میں موجود تھے انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں میں فتنہ بڑھتا جارہا ہے حضرت علی پر زور دیا کہ آپ لوگوں کی بیعت لیں۔دوسری طرف کچھ مفسدین بھاگ کر حضرت علی کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس وقت اسلامی حکومت کے