اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 346
اصحاب بدر جلد 4 ނ 346 "(66) متعلق نازل ہوئی ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( یعنی نہیں تیرے رب کی قسم ! وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنالیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔پھر تُو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔نعمتوں کا زمانہ عنقریب آنے والا ہے 823 حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ( از مر:32) یعنی یقینا تم قیامت کے دن اپنے رب کے حضور ایک دوسرے سے بحث کرو گے۔تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہماری دنیاوی لڑائیاں مراد ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔پھر جب یہ آیت نازل ہوئی ثُمَّ لَتُسْلُنَ يَوْمَنِ عَنِ النَّعِيمِ (:) یعنی اس دن تم ناز و نعم کے متعلق ضرور پوچھے جاؤ گے۔تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم سے کن نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا جبکہ ہمارے پاس تو صرف کھجور اور پانی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبر دار ! یہ نعمتوں کا زمانہ بھی عنقریب آنے والا ہے۔آج تو یہ تنگی ہے۔ان شاء اللہ کشائش بھی آنے والی ہے۔سارا جسم تلواروں سے زخمی اور۔۔۔۔۔۔824 حفص بن خالد کہتے ہیں کہ مجھے اس بزرگ نے یہ حدیث بیان کی ہے جو کہ موصل ( یہ موصل جو ہے شام کا مشہور شہر ہے جو اپنی کثیر آبادی اور وسیع رقبے کے لحاظ سے اس وقت کے اسلامی ممالک میں بہت اہم تھا۔تمام شہروں سے وہاں لوگ آیا کرتے تھے۔یہ نیٹو کے قریب دجلہ کے کنارے بغداد سے 222 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔اس شہر کا تعارف تو یہ ہے جو فرھنگ میں لکھا گیا ہے لیکن بہر حال وہ کہتے ہیں موصل) مقام سے ہمارے پاس آتے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زبیر بن عوام کے ساتھ کچھ سفر کیے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحرا میں ان کو غسل کی حاجت ہو گئی۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے لیے پردہ کرو۔میں نے ان کے لیے کپڑے سے پردہ کیا۔وہ غسل کرنے لگ گئے۔اچانک میری نگاہ ان کے جسم پر پڑ گئی۔میں نے دیکھا کہ ان کا سارا جسم تلواروں کے زخموں کے نشانات سے چھلنی تھا۔میں نے ان سے کہا خدا کی قسم ! میں نے آپ کے جسم پر زخموں کے ایسے نشانات دیکھے ہیں جو آج سے پہلے میں نے کبھی کسی کے جسم پر نہیں دیکھے۔انہوں نے جوابا کہا کیا تم نے میرے جسم کے زخموں کے نشان دیکھ لیے ہیں ؟ پھر فرمایا خدا کی قسم ! یہ تمام زخم مجھے اللہ کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ کرتے ہوئے آئے ہیں۔حضرت عثمان، حضرت مقداد، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت زبیر کو وصیت کر رکھی تھی۔چنانچہ وہ ان احباب کے مال کی حفاظت کرتے اور اپنے مال سے ان 825