اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 339 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 339

اصحاب بدر جلد 4 339 ان کی یہ بات سن کے فرمایا کہ تم نے سچ کہا۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں کہا کہ تم سے اس نے سچ بیان کیا ہے۔حضرت عمرؓ اس وقت بڑے غصے میں تھے اور غصے میں مغلوب ہو کر آنحضرت صلی الیکم سے عرض کیا کہ مجھے اجازت دیں کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔806 نبی کریم صلی علیم نے فرمایا کہ یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اور تمہیں یہ کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا کہ تم جو کچھ کرتے رہو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں۔16 رسول اللہ صلی ال یا کھڑے ہو کر ان کے چہروں سے اپنی چادر کے ساتھ غبار پونچھنے لگے جب رسول اللہ صلی علیم نے مکہ فتح کیا تو حضرت زبیر بن عوام فوج کے بائیں طرف تھے اور حضرت مقداد بن اسود فوج کے دائیں حصے پر مقرر تھے۔جب رسول اللہ صلی علیم مکے میں داخل ہوئے اور لوگ مطمئن ہو گئے تو دونوں حضرات یعنی حضرت زبیر اور حضرت مقداد اپنے گھوڑوں پر آئے تو رسول اللہ صلی للی کم کھڑے ہو کر ان کے چہروں سے اپنی چادر کے ساتھ غبار پونچھنے لگے اور فرمایا کہ میں نے گھوڑے کے لیے دو حصے اور سوار کے لیے ایک مقرر کیا ہے۔جو ان دونوں کو کم دے اللہ اسے کم دے۔807 حصہ ہبل بت کا ٹوٹ کر گرنا اور اُغلُ هُبل کا نعرہ لگانے والے ابوسفیان۔۔۔۔۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی حضرت زبیر کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : جب رسول اللہ صلی علیم نے ہبل نامی بت کے اوپر اپنی چھڑی ماری اور وہ اپنے مقام سے گر کر ٹوٹ گیا تو حضرت زبیر نے ابوسفیان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا ابوسفیان ! یاد ہے احد کے دن جب مسلمان زخموں سے چور ایک طرف کھڑے ہوئے تھے۔تم نے اپنے غرور میں یہ اعلان کیا تھا کہ اُغلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل۔ہبل کی شان بلند ہو۔ہبل کی شان بلند ہو اور یہ کہ ہبل نے ہی تم کو احد کے دن مسلمانوں پر فتح دی تھی۔آج دیکھتے ہو سامنے ہبل کے ٹکڑے پڑے ہیں۔ابوسفیان نے کہاز بیر یہ باتیں اب جانے دو۔آج ہم کو اچھی طرح نظر آرہا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی یکم کے خدا کے سوا کوئی اور خدا بھی ہو تا تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس طرح کبھی نہ ہوتا۔پس یہی خدا ہے جو آنحضرت صلی اللہ نمر کا خدا ہے۔808 جنگ حنین اور زبیر بن عوام کی بہادری جنگ حنین کے دن قبیلہ ہوازن کی غیر متوقع تیر اندازی سے اور اس وجہ سے بھی کہ آج لشکرِ اسلام میں دو ہزار نو مسلم بھی شامل تھے۔ایسا وقت آیا کہ رسول خداصلی ال یکم اکیلے میدان میں رہ گئے۔حضرت عباس آنحضرت صلی الم کے خچر کی لگام تھامے تھے۔کافر سردار مالک بن عوف ایک گھاٹی پر شہسواروں کے ساتھ کھڑا تھا۔اس نے دیکھا کچھ شہسوار ظاہر ہوئے۔مالک بن عوف نے پوچھا یہ کیا نظر