اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 313

بدر جلد 4 313 آپ صلی اللہ کریم نے اس لئے فرمایا کہ آپ حفصہ کے ساتھ شادی کر لینے اور اپنی لڑکی ام کلثوم کو حضرت عثمان کے ساتھ بیاہ کر دینے کا ارادہ کر چکے تھے جس سے حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان دونوں کو اطلاع تھی۔ان کو بتلا دیا تھا اور اسی لئے انہوں نے حضرت عمر کی تجویز کو ٹال دیا تھا۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد آنحضرت صلی اہل علم نے حضرت عثمان سے اپنی صاحبزادی ام کلثوم کی شادی فرما دی جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور اس کے بعد آپ نے خود اپنی طرف سے حضرت عمرؓ کو حفصہ کے لیے پیغام بھیجا۔حضرت عمر کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے تھا۔انہوں نے نہایت خوشی سے اس رشتہ کو قبول کیا اور شعبان 3 ہجری میں حضرت حفصہ آنحضرت صلی علیم کے نکاح میں آکر حرم نبوی میں داخل ہو گئیں۔جب یہ رشتہ ہو گیا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ شاید آپ کے دل میں میری طرف سے کوئی ملال ہوا ہو ، دل میں میل پیدا ہوا ہو، رنج ہوا ہو۔بات یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی علیم کے ارادے سے اطلاع تھی لیکن میں آپ کی اجازت کے بغیر یعنی آنحضرت صلی للی کم کی اجازت کے بغیر آپ کے راز کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ہاں آپ کا اگر یہ یعنی اس رشتہ کا آنحضرت صلی کام کا ارادہ نہ ہو تا تو میں بڑی خوشی سے حفصہ سے شادی کر لیتا۔حفصہ کے نکاح میں ایک تو یہ خاص مصلحت تھی کہ وہ حضرت عمر کی صاحبزادی تھیں جو گویا حضرت ابو بکر کے بعد تمام صحابہ میں افضل ترین سمجھے جاتے تھے اور آنحضرت صلی علیہ کم کے مقربین خاص میں سے تھے۔پس آپس کے تعلقات کو زیادہ مضبوط کرنے اور حضرت عمرؓ اور حفصہ کے اس صدمہ کی تلافی کرنے کے واسطے جو خنیس بن حذافہ کی بے وقت موت سے ان کو پہنچا تھا آنحضرت صلی یکم نے مناسب سمجھا کہ حفصہ سے خود شادی فرمالیں۔3 ایک روایت کے مطابق حضرت خُنَيْس بن حذافہ کو غزوہ اُحد میں کچھ زخم آئے۔بعد میں انہی زخموں کی وجہ سے آپ کی مدینہ میں وفات ہوئی۔حضور صلی العلیم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کیا گیا۔744 743 100 نام و نسب و کنیت حضرت خوات بن جبير انصاری ان کا نام ہے۔حضرت خَوات بن جبیر انصاری۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور ابو صالح بھی تھی۔حضرت خوات کا تعلق بنو ثعلبہ سے تھا اور حضرت خوات بن جبير حضرت عبد اللہ بن جبیر کے بھائی