اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 289
تاب بدر جلد 4 289 نے عرض کیا جی ہاں ! تو امیہ نے کہا کہ میں تو رحمان کو نہیں جانتا۔جب امیہ نے مجھے میرے نام سے پکارا۔جب دوبارہ عبد الرحمن کہا تو پھر میں نے جواب دیا۔بہر حال بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جب امیہ نے انہیں ان کے پرانے نام سے پکارا تھا تو وہ سمجھ تو گئے تھے کہ اس کے مخاطب وہی ہیں مگر انہوں نے اس پکار پر اس لیے جواب نہیں دیا کہ پکارنے والے نے ان کو ایک بت کا بندہ کہہ کر پکارا تھا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی بڑی حد تک امکان ہے کہ وہ سمجھے ہی نہ ہوں کہ کس کو پکارا گیا ہے کیونکہ وہ نام چھوڑے ہوئے کافی عرصہ ان کو ہو گیا تھا۔پھر جب امیہ نے انہیں ان کے موجودہ نام سے پکارا تو وہ سمجھ گئے کہ وہی مراد ہیں اور وہ جواب دے کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔تب امیہ نے ان سے کہا کہ اگر تم پر میرا کوئی حق ہے تو میں تمہارے لیے ان زرہوں سے بہتر ہوں جو تیرے پاس ہیں۔پرانی دوستی تھی، دوستی کا حوالہ دیا۔کیونکہ اس وقت ایسی حالت تھی کہ ان کو شکست تو ہو چکی تھی تو بچاؤ کی صورت یہ کہا کہ یہ حق ہے تو میں بہتر ہوں ان زرہوں سے کہ میرے لیے تم انتظام کرو۔میں نے انہیں کہا ٹھیک ہے۔پھر میں نے زر ہیں نیچے رکھ کر امیہ اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑ لیا۔امیہ کہنے لگے کہ میں نے زندگی بھر کبھی ایسا دن نہیں دیکھا جو آج بدر کے دن گزرا ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ تم میں وہ شخص کون ہے جس کے سینے پر زرہ میں شتر مرغ کا پر لگا ہوا ہے۔میں نے کہا حمزہ بن عبد المطلب۔تو امیہ نے کہا کہ یہ سارا کیا دھرا اسی کا ہے۔ان کی وجہ سے ہماری یہ حالت ہوئی ہے۔بہر حال اس کے اپنے اندازے تھے۔ایک قول یہ ہے کہ یہ بات امیہ کے بیٹے نے کہی تھی۔بہر حال حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں ان دونوں کو لے کر چل رہا تھا۔ہاتھ پکڑ لیا چل پڑا کہ اچانک حضرت بلال نے امیہ کو میرے ساتھ دیکھ لیا۔کتے میں امیہ حضرت بلال کو اسلام سے پھیرنے کے لیے بڑا عذاب دیا کرتا تھا۔حضرت بلال امیہ کو دیکھتے ہی بولے کہ کافروں کا سر دار اُمیہ بن خلف یہاں ہے۔اگر یہ بچ گیا تو سمجھو میں نہیں بچا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا تم میرے قیدیوں کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو ؟ حضرت بلال نے بار بار یہی کہا کہ اگر یہ بچ گیا تو میں نہیں بچا اور میں بھی ہر بار ایسا ہی کہتا، بار بار اس کو یہی جواب دیتارہا۔پھر حضرت بلال بلند آواز سے چلائے کہ اے اللہ کے انصار ! یہ کافروں کا سردار امیہ بن خلف ہے۔بڑی زور سے انہوں نے پکارا کہ اے اللہ کے انصار ! یہ کافروں کا سردار امیہ بن خلف ہے اگر یہ بچ گیا تو سمجھو میں نہیں بچا اور بار بار ایسا کہا۔حضرت عبد الرحمن " کہتے ہیں کہ یہ سن کر انصاری دوڑ پڑے اور انہوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔پھر حضرت بلال نے تلوار سونت کر اُمیہ کے بیٹے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ نیچے گر گیا۔امیہ نے اس پر خوف کی وجہ سے ایسی بھیانک چیخ ماری کہ ایسی چیچ میں نے کبھی نہیں سنی۔اس کے بعد انصاریوں نے ان دونوں کو تلواروں کے وار سے کاٹ ڈالا۔685 صحیح بخاری میں اُمیہ کے قتل کا واقعہ اس طرح مذکور ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُمیہ بن خلف کو خط لکھا کہ وہ سگے میں ، جو اس وقت دار الحرب تھا، میرے مال اور