اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 267

ب بدر جلد 4 267 اور ایک کلمہ بے صبری کا منہ سے نکلنے نہ دیا لیکن آنسوؤں پر کسے اختیار تھا۔اناللہ پڑھا اور روتے روتے وہیں بیٹھ گئیں۔حالت یہ تھی کہ غمزدہ خاموش آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔راوی کہتا ہے کہ آنحضور بھی پاس بیٹھ گئے۔آپ کی آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔جب حضرت صفیہ کے آنسو مدھم پڑتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بھی مدھم پڑ جاتے۔جب حضرت صفیہ کے آنسو تیز ہوتے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بھی تیز ہو جاتے۔چند منٹ اسی حالت میں گزرے۔پس آنحضور اور اہل بیت کا نوحہ ان چند خاموش آنسوؤں کے سوا اور کچھ نہ تھا اور یہی سنت نبوی ہے۔آپ مدینہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ تمام مدینہ ماتم کدہ بنا ہوا تھا اور گھر گھر سے شہدائے احد کی یاد میں نوحہ گروں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو بڑے درد سے فرمایا۔حمزہ کا تو کوئی رونے والا نہیں۔ہاں حمزہ کو رونے والا ہو بھی کون سکتا ہے کہ اہل بیت کو تو صبح و شام صبر کی تلقین ہوا کرتی تھی۔حضور کے اس درد بھرے فقرے کو جب بعض انصار نے سنا تو تڑپ اٹھے اور گھروں کی طرف دوڑے اور بیبیوں کو حکم دیا کہ ہر دوسر اما تم چھوڑ دو اور حمزہ پر ماتم کرو۔دیکھتے دیکھتے ہر طرف سے حمزہ کے لیے آہ و بکا کا ایک شور بلند ہوا اور ہر گھر حمزہ کا ماتم کدہ بن گیا۔انصار بیبیاں نوحہ کو پڑھتے ہوئے اور آنسو بہا تیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت کدہ پر بھی اکٹھی ہو گئیں۔آنحضور نے شور سن کر باہر دیکھا تو انصار بیبیوں کی ایک بھیڑ لگی ہوئی تھی۔حضور نے ان کی ہمدردی پر ان کو دعا دی اور شکریہ ادا کیا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ مُردوں پر نوحہ کرنا جائز نہیں۔پس اس دن سے نوحہ کی رسم متروک کر دی گئی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ہماری جانیں نثار ہوں۔کس شان کا معلم اخلاق تھا جو روحانیت کے آسمان سے ہمیں دین سکھانے نازل ہوا۔کیسا صاحب بصیرت اور زیرک تھا یہ نصیحت کرنے والا جس کی نظر انسانی فطرت کے پاتال تک گزر جاتی تھی۔اگر اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم انصار بیبیوں کو نوحہ کرنے سے منع فرما دیتے جب وہ اپنے شہیدوں کا نوحہ کر رہی تھیں تو شاید بعض دلوں پر یہ شاق گزرتا اور یہ صبر ان کے لیے صبر آزما ہو جاتا لیکن دیکھو! کیسے حکیمانہ انداز میں آپ نے پہلے ان کے ماتم کا رخ اپنے چچا حمزہ کی طرف پھیرا۔پھر جب نوحہ سے منع فرمایا تو گویا اپنے چچا کے نوحہ سے منع فرمایا۔اللہ کا انتخاب اللہ کا انتخاب ہے۔دیکھو! اپنی مخلوق کے لیے کس شان کا نصیحت کرنے والا بھیجا اللہ تعالٰی نے جو انسانی فطرت کی باریکیوں اور لطافتوں سے خوب آشنا تھا اور اپنے غلاموں کے لطیف جذبات کا کیسا خیال رکھنے والا تھا۔آنحضور کی ان حسین اداؤں پر جب نظر پڑتی ہے تو دل سینے میں اچھلتا ہے اور فریفتہ ہونے لگتا ہے اور بے اختیار دل سے یہ آواز اٹھتی ہے کہ ہماری جانیں، ہمارے اموال، ہماری اولادیں تیرے قدموں