اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 252
اصحاب بدر جلد 4 252 بہن کا بھائی کی نعش پر صبر ورضا اور اطاعت کا قابل رشک مظاہرہ حضرت زبیر سے مروی ہے کہ غزوہ اُحد کے دن اختتام پر ایک عورت سامنے سے بڑی تیزی کے ساتھ آتی ہوئی دکھائی دی۔قریب تھا کہ وہ شہداء کی لاشیں دیکھ لیتی۔نبی کریم صلی اللہ ہم نے اس کو اچھا نہیں سمجھا کہ کوئی خاتون وہاں آئے اور لاشوں کی جو بہت بری حالت تھی وہ دیکھ سکے۔اس لئے فرمایا کہ اس عورت کو روکو۔اس عورت کو روکو۔حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے غور سے دیکھا کہ یہ میری والدہ حضرت صفیہ نہیں۔چنانچہ میں ان کی طرف دوڑتا ہوا گیا اور شہداء کی لاشوں تک پہنچنے سے قبل ہی میں نے انہیں جا لیا۔انہوں نے مجھے دیکھ کر، میرے سینے پر مار کر مجھے پیچھے کو دھکیل دیا۔وہ ایک مضبوط خاتون تھیں۔اور کہنے لگیں کہ پرے ہٹو میں تمہاری کوئی بات نہیں مانوں گی۔میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی الیکم نے آپ کو روکنے کا کہا ہے کہ آپ ان لاشوں کو مت دیکھیں۔یہ سنتے ہی وہ رک گئیں اور اپنے پاس موجود دو کپڑے نکال کر فرمایا یہ دو کپڑے ہیں جو میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لائی ہوں کیونکہ مجھے ان کی شہادت کی خبر مل چکی ہے۔تو یہ تھی اطاعت اس زمانے کی۔یعنی کہ وہ یہ سنتے ہی کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا ہے کہ اسے روکو تو جہاں بھی آنحضرت صلی علیہ نیم کا نام سناباوجو د غم کی حالت کے باوجود اس کے کہ وہ بڑی جوش کی حالت میں تھیں فوری طور پر اپنے جذبات کو کنٹرول کیا اور رک گئیں۔یہ کامل اطاعت ہے۔اور کہنے لگیں کہ اپنے بھائی کے لئے کپڑے لائی ہوں۔شہادت کی خبر مجھے مل چکی ہے۔تم انہیں ان کپڑوں میں کفن دے دینا۔جب ہم حضرت حمزہ کو ان دو کپڑوں میں کفن دینے لگے تو دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک انصاری شہید ہوئے پڑے ہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا تھا جو حضرت حمزہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ہمیں اس بات پر شرم محسوس ہوئی کہ حضرت حمزہ کو دو کپڑوں میں کفن دیں اور اس انصاری کو ایک کپڑا بھی میسر نہ ہو۔اس لئے ہم نے یہ طے کیا کہ ایک کپڑے میں حضرت حمزہ کو اور دوسرے میں اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو کفن دیں۔اندازہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں حضرات میں سے ایک زیادہ لمبے قد کا تھا۔ہم نے قرعہ اندازی کی اور جس کے نام جو کپڑا نکل آیا اسے اسی کپڑے میں دفنادیا۔603 تجهیز و تکفین حضرت حمزہ کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا تھا۔جب آپ کا سر ڈھانکا جاتا تو دونوں پاؤں سے کپڑا ہٹ جاتا اور جب چادر پاؤں کی طرف کھینچ دی جاتی تو آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا۔تو اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ آپ کا چہرہ ڈھانک دیا جائے اور پاؤں پر حرمل یا اذخر گھاس رکھ دی جائے۔حضرت حمزہ اور حضرت عبد اللہ بن جحش جو کہ آپ کے بھانجے تھے ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے۔نبی کریم صلی علیکم الله