اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 249
تاب بدر جلد 4 249 کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے بتادیا کہ ہم انصار میں سے ہیں۔عتبہ نے کہا کہ ہمیں تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہم تو صرف اپنے چچا کے بیٹوں سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو نبی کریم صلی الم نے فرمایا اے حمزہ ! اٹھو۔اے علی ! کھڑے ہو۔اے عبیدہ بن حارث ! آگے بڑھو۔حمزہ تو عتبہ کی طرف بڑھے اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں شیبہ کی طرف بڑھا اور عبیدۃ اور ولید کے درمیان جھڑپ ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو سخت زخمی کیا اور پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو مار ڈالا اور عبیدۃ کو ہم میدان جنگ سے اٹھا کر لے آئے۔594 حضرت علی اور حمزہ ان دونوں نے تو اپنے اپنے مخالفین کو مار دیا تھا۔جب نبی کریم صلی کلم نے فرمایا اے حمزہ ! اٹھو۔اور اے علی ! کھڑے ہو۔اے عبیدہ بن حارث ! آگے بڑھو۔اس موقع پر جب تینوں کھڑے ہوئے اور عتبہ کی طرف بڑھے تو عتبہ نے کہا کہ کچھ بات کرو تاکہ ہم تمہیں پہچان نہیں کیونکہ وہ خود پہنے ہوئے تھے۔ان کے منہ ڈھانکے ہوئے تھے۔اس موقع پر حضرت حمزہ نے کہا کہ میں حمزہ ہوں جو اللہ اور اس کے رسول صلی علیہ کم کا شیر ہے تو عتبہ نے کہا اچھا مقابل ہے۔595 شتر مرغ کا پر لگائے ہوئے۔۔۔۔حضرت حمزہ کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ غزوہ بدر میں کفار میں دہشت ڈالنے کے لئے آپ شتر مرغ کا پر بطور نشان جنگ لگائے ہوئے تھے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ اُمیہ بن خلف سردار قریش میں سے تھا جو کہ مکہ میں حضرت بلال کو تکالیف دیتا تھا۔غزوہ بدر میں انصار کے ہاتھوں مارا گیا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس کے سینہ میں شتر مرغ کا پر لگا ہوا ہے۔میں نے کہا کہ یہ حمزہ بن عبد المطلب ہیں۔اُمیہ کہنے لگا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے آج ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔596 انگریز مؤرخ سر ولیم میور غزوہ احد کے ذکر میں حضرت حمزہ کی موجودگی کے بارہ میں لکھتا ہے کہ حمزہ لہراتے ہوئے شتر مرغ کے پر کے ساتھ ہر جگہ نمایاں نظر آتے تھے۔7 اور بھی کئی سرداروں کو آپ نے جنگ میں قتل کیا۔597 جنگ احد اور حضرت حمزہ کی شجاعت غزوہ اُحد میں بھی حضرت حمزہ نے شجاعت کے کمالات دکھائے۔آپ کی یہ بہادری قریش مکہ کی آنکھوں میں سخت کھٹکی تھی۔بخاری میں اس کی تفصیل اس طرح درج ہے کہ : حضرت جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ سفر میں گیا۔جب ہم حمص جو ملک شام کا مشہور شہر ہے اس میں پہنچے تو عبید اللہ بن عدی نے مجھ سے کہا کہ کیا آپ وحشی بن حرب حبشی سے ملنا چاہتے ہیں۔حضرت حمزہ کے قتل کی بابت اس سے پوچھیں گے۔اس نے کہا کہ اچھا اور وحشی حمص میں رہا