اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 248
بدر جلد 4 248 591 آپ کو حوض کو ثر عطا کیا جائے گا جو بہت وسعت رکھتا ہو گا۔حضور صلی علیکم نے فرمایا ہاں یہ سچ ہے اور یہ بھی سن لو کہ مجھے عام لوگوں سے کہیں زیادہ تمہاری قوم انصار کا اس حوض سے سیراب ہونا پسند ہے۔کیسی محبت تھی انصار سے صرف اس لئے کہ جب اپنی قوم نے آپ کو نکالا تو انصار تھے جنہوں نے آپ پر اپناسب کچھ نچھاور کر دیا۔جنگ بدر اور حضرت حمزہ کے دلیرانہ کارنامے تاریخ میں غزوہ بدر کے حوالے سے ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ دو ہجری میں بدر کا مشہور معرکہ پیش آیا تو غزوہ بدر کے موقع پر کفار کی طرف سے اسود بن عبد الاسد مخزومی نکلا۔یہ نہایت ہی شریر اور برا شخص تھا۔اس نے عہد کیا تھا کہ مسلمانوں نے جو پانی کی جگہ رکھی تھی میں ضرور رسول اللہ صلی علیم کے اس حوض میں سے جا کر پانی پیوں گا۔یا اسے ڈھاؤں گا، خراب کروں گا یا اس کے پاس مر جاؤں گا۔وہ اس ارادے سے نکلا۔حضرت حمزہ بن عبد المطلب اس کا مقابلہ کرنے آئے۔جب ان دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت حمزہ نے تلوار کا وار کر کے اس کی آدھی پنڈلی کاٹ دی۔وہ حوض کے پاس تھا۔وہ کمر کے بل گرا اور اپنی قسم پوری کرنے کے لئے حوض کی طرف بڑھا تا کہ اپنی قسم پوری کرے۔حضرت حمزہ نے اس کا پیچھا کیا۔ایک اور وار کر کے اسے ختم کر دیا۔592 سکا۔وہ حوض کے قریب مر تو گیا لیکن یہ جو تھا کہ پانی پیوں گا یا خراب کروں گاوہ اسے بہر حال نہ کر جنگ بدر اور مبارزت حضرت علی غزوہ بدر کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اس میں کفار کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔رات بھر رسول اللہ صلی الل علم خدا کے حضور عاجزانہ دعاؤں اور تضرعات میں مصروف رہے۔جب کفار کا لشکر ہمارے قریب ہوا اور ہم ان کے سامنے صف آراء ہوئے تو ناگاہ ایک شخص پر نظر پڑی جو سرخ اونٹ پر سوار تھا اور لوگوں کے درمیان اس کی سواری چل رہی تھی۔رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا اے علی ! حمزہ جو کفار کے قریب کھڑے ہیں انہیں پکار کر پوچھو کہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر حضور صلی ایم نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص انہیں خیر بھلائی کی نصیحت کر سکتا ہے تو وہ سرخ اونٹ والا شخص ہے۔اتنی دیر میں حضرت حمزہ بھی آگئے۔انہوں نے آکر بتایا کہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو کفار کو جنگ سے منع کر رہا ہے جس کے جواب میں ابو جہل نے اسے کہا ہے کہ تم بزدل ہو اور لڑائی سے ڈرتے ہو۔عتبہ نے جوش میں آکر کہا کہ آج دیکھتے ہیں کہ بزدل کون ہے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ اور اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور بھائی بھی نکلے اور پکار کر کہا کہ کون ہمارے مقابلہ کے لئے آتا ہے تو انصار کے کئی نوجوانوں نے اس کا جواب دیا۔عتبہ نے پوچھا 593