اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 247

اصحاب بدر جلد 4 247 درمیان میں پڑ کر بیچ بچاؤ کر وایا اور لڑائی ہوتے ہوتے رک گئی۔587 یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ جو پہلا لواء تھا یا جھنڈا تھار سول اللہ صلی الم نے حضرت حمزہ کو عطا کیا تھا۔جبکہ بعض روایتیں یہ ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ اور حضرت حمزہ کے سر یہ ایک ساتھ روانہ ہوئے تھے اس سے شبہ پڑتا ہے (کہ جھنڈا کس کو عطا فرمایا) لیکن بہر حال دو ہجری میں غزوہ بنو قینقاع میں جو رسول اللہ صلی علیم کا جھنڈا تھا وہ حضرت حمزہ ہی اٹھائے ہوئے تھے۔588 عزت نفس کو قائم رکھنا بہتر ہے آنحضرت صلی ال یکم کے اس ارشاد پر حضرت حمزہ نے ہمیشہ عمل کیا اور قائم رہے کہ اپنی خودداری اور اپنی عزت نفس کو قائم رکھنا بہتر ہے اور یہ ہمیشہ قائم رکھنی چاہئے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد دیگر مسلمانوں کی طرح حضرت حمزہ کے مالی حالات بھی بہت خراب ہو گئے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ انہی ایام میں ایک روز حضرت حمزہ نبی کریم صلی الی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کوئی خدمت میرے سپرد فرما دیں تا کہ ذریعہ معاش کی کوئی صورت پیدا کرلوں تو رسول کریم صلی علی یکم نے انہیں فرمایا کہ اے حمزہ اپنی عزت نفس قائم اور زندہ رکھنا زیادہ پسند ہے یا اسے مار دینا۔حضرت حمزہ نے عرض کیا میں تو اسے زندہ رکھنا ہی پسند کرتا ہوں۔آپ صلی لی ہم نے فرمایا پھر اپنی عزت نفس کی حفاظت کرو۔آپ کو سکھائی جانے والی دعا الله سة 589 590 پھر نبی کریم صلی علیم نے آپ کو دعاؤں پر زور دینے کی تحریک فرمائی اور بعض خاص دعائیں سکھائیں۔چنانچہ حضرت حمزہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا تھا کہ اس دعا کو لازم پکڑو کہ اللهم الى استلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ وَرِضْوَانِكَ الْأَكْبَرِ۔یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے اسم اعظم اور رضوان اکبر کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں اور ہمیشہ پھر آپ نے اس کے پھل کھائے۔چنانچہ حضرت حمزہ کو دعاؤں پر کتنا ایمان اور یقین تھا ان باتوں کا بھی روایتوں سے اظہار ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو تا جبکہ ان دعاؤں ہی کی برکت سے بظاہر اس تہی دست اور تہی دامن مہاجر کو اللہ تعالیٰ نے گھر بار اور ضرورت کا سب کچھ عطا فرمایا۔بنو نجار کی ایک خاتون سے شادی اور نبی صلی یم کی انصار سے محبت کچھ عرصہ بعد حضرت حمزہ نے بنی نجار کی ایک انصاری خاتون خولہ بنت قیس کے ساتھ شادی کی۔نبی کریم صلی علیم ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔حضرت خولہ بعد میں نبی کریم صلی ی نیم کی اس دور کی محبت بھری باتیں سنایا کرتی تھیں۔فرماتی تھیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی الم ہمارے گھر تشریف لائے۔میں نے عرض کیا کہ اے خدا کے رسول مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن