اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 246

ب بدر جلد 4 246 نے اسی مجلس میں جس میں کہ انہوں نے ابو جہل کے سر پر کمان ماری تھی اپنے ایمان کا اعلان کر دیا اور ابو جہل کو مخاطب ہو کر کہا کہ تو نے محمد صلی للی کم کو گالیاں دی ہیں صرف اس لئے کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں اور فرشتے مجھ پر اترتے ہیں۔ذرا کان کھول کر سن لو کہ میں بھی آج سے محمد صلی علیم کے دین پر قائم ہوں اور میں بھی وہی کچھ کہتا ہوں جو محمد صلی علیہ ہم کہتے ہیں اگر تجھ میں ہمت ہے تو آمیرے مقابلے پر۔یہ کہہ کر حمزہ مسلمان ہو گئے۔3 مسلمانوں کو تقویت ملنا 583 روایات میں ہے کہ حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے کے بعد مکہ کے جو مسلمان تھے ان کے ایمان کو بڑی تقویت ملی۔584 بلکہ انگریز مورخ سر ولیم میور نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ محمد صلی علیکم کے مقصد کو حضرت حمزہ اور حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے سے تقویت ملی۔585 ہجرت مدینہ اور مواخات حضرت حمزہ نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت کلثوم بن ھدم کے مکان پر قیام کیا۔اور ایک روایت کے مطابق آپ نے حضرت سعد بن خَيْثَمَہ کے ہاں قیام کیا۔بہر حال مدینہ ہجرت کرنے کے بعد رسول اللہ صلی علیم نے حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کے در میان رشتہ اخوت قائم فرمایا۔اسی بناء پر غزوہ اُحد پر جاتے ہوئے حضرت حمزہ نے حضرت زید کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔586 پہلا جھنڈا جور سول اللہ صلی الل ولم نے حضرت حمزہ کو عطا فرمایا مدینہ ہجرت کے بعد بھی کفار کی ریشہ دوانیاں ختم نہیں ہوئیں۔ان کی چھیڑ چھاڑ مسلمانوں کو تنگ کرناختم نہیں ہوا اس لئے مسلمانوں کو بڑا ہو شیار رہنا پڑتا تھا اور کفار کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی پڑتی تھی۔روایت میں ہے قریش کی نقل و حرکت اور ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنے کے لئے نبی کریم صلی ا کم کو مہمات کی ضرورت پیش آئی جن میں حضرت حمزہ کو غیر معمولی خدمت کی توفیق ملی۔ربیع الاول دو ہجری کو نبی کریم صلی ا ہم نے حضرت حمزہ کی قیادت میں تیس شتر سوار مہاجرین پر مشتمل ایک دستہ عبیص کی طرف روانہ فرمایا۔حمزہ اور ان کے ساتھی جلدی جلدی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کارئیس اعظم ابو جہل تین سو سواروں کا ایک لشکر لئے ان کے استقبال کو موجود تھے۔مسلمانوں کی تعداد سے یہ تعداد دس گنا سے زیادہ تھی مگر مسلمان خدا اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں گھر سے نکلے تھے اور موت کا ڈر انہیں پیچھے نہیں ہٹا سکتا تھا۔دونوں ایک دوسرے کے مقابل میں ہو گئے۔صف آرائی شروع ہو گئی اور لڑائی شروع ہونے والی تھی کہ اس علاقے کے رئیس مجدی بن عمر و الجھنی نے جو دونوں فریق کے ساتھ تعلقات رکھتا تھا