اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 245
تاب بدر جلد 4 245 کر حیران ہو گئے اور تعجب سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ لونڈی نے کہا کہ معاملہ کیا ہے۔تمہارا بھتیجا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہاں بیٹھا تھا کہ ابو جہل آیا اور اس نے محمد صلی علی تم پر حملہ کر دیا اور بے تحاشا گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر ان کے منہ پر تھپڑ مارا۔مگر محمد صلی ا ہم نے آگے سے اُف تک نہیں کی اور خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔ابو جہل گالیاں دیتا گیا اور دیتا گیا اور جب تھک گیا تو چلا گیا۔مگر میں نے دیکھا کہ محمد صلی الم نے اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا۔تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔بڑے اکڑتے ہوئے شکار سے واپس آئے ہو تو تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہاری موجودگی میں تمہارے بھتیجے کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔حضرت حمزہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اس وجہ سے بھی کہ سرداران قریش میں ان لوگوں کا شمار ہوتا تھا اور ریاست کی وجہ سے اسلام کو ماننے کو تیار نہیں تھے حالانکہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی علیم سچے ہیں مگر حمزہ اس وقت اپنی شان اور جاہ و جلال کو ایمان پر قربان کرنے کے لئے تیار نہیں تھے مگر جب انہوں نے اپنی لونڈی سے یہ واقعہ سنا تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور ان کی خاندانی غیرت جوش میں آئی۔چنانچہ وہ اسی طرح بغیر آرام کئے غصہ سے کعبہ کی طرف روانہ ہو گئے۔پہلے انہوں نے کعبہ کا طواف کیا اور اس کے بعد مجلس کی طرف بڑھے جس میں ابو جہل بیٹھا ہوا اپنی بڑیں مار رہا تھا لاف زنی کر رہا تھا اور اس واقعہ کو بڑا مزے لے لے کر سنارہا تھا اور تکبر کے ساتھ یہ بیان کر رہا تھا کہ آج میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یوں گالیاں دیں اور آج میں نے یہ سلوک کیا۔حمزہ جب اس مجلس میں پہنچے تو انہوں نے جاتے ہی کمان بڑے زور کے ساتھ ابو جہل کے سر پر ماری اور کہا کہ تم اپنی بہادری کے دعوے کر رہے ہو اور لوگوں کو سنارہے ہو کہ میں نے محمد صلی ا کرم کو اس طرح ذلیل کیا اور محمد نے اُف تک نہیں کی۔صلی اللہ علیہ وسلم۔اب میں تجھے ذلیل کرتا ہوں اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو میرے سامنے بول۔ابو جہل اس وقت مکہ کے اندر ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔قوم کا سر دار تھا۔فرعون والی حالت تھی اس کی۔جب اس کے ساتھیوں نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ جوش کے ساتھ اٹھے اور انہوں نے حمزہ پر حملہ کرنا چاہا۔مگر ابو جہل جو رسول کریم صلی للی کم کی خاموشی کے ساتھ گالیاں برداشت کرنے کی وجہ سے اور پھر اب حمزہ کی دلیری اور جرآت کی وجہ سے مرعوب ہو گیا تھا بیچ میں آگیا اور ان لوگوں کو حملہ کرنے سے روکا اور کہا تم لوگ جانے دو۔دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے ہی زیادتی ہوئی تھی اور حمزہ حق بجانب ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے انداز میں پھر لکھا کہ محمد رسول اللہ صلی علیکم تو جس وقت صفا اور مروہ کی پہاڑیوں سے واپس گھر آئے تھے اپنے دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ میر اکام لڑنا نہیں ہے بلکہ صبر کے ساتھ گالیاں برداشت کرنا ہے مگر خدا تعالیٰ عرش پر کہہ رہا تھا کہ آلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کہ اے محمد صلی ال کی تو لڑنے کے لئے تیار نہیں مگر کیا ہم موجود نہیں ہیں جو تیری جگہ تیرے دشمنوں کا مقابلہ کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اسی دن ابو جہل کا مقابلہ کرنے والا ایک جاشار آپ کو دے دیا اور حضرت حمزہ