اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 244

اصحاب بدر جلد 4 244 حضرت حمزہ کے قبول اسلام کا واقعہ حضرت مصلح موعودؓ نے تاریخی واقعات کی روشنی میں اپنے اند از میں بیان کیا ہے۔اس کا کچھ خلاصہ میں بیان کروں گا اور کچھ تفصیل بھی۔اس کو سن کے انسان جب تصور میں لاتا ہے کہ کس طرح حضرت حمزہ نے اسلام قبول کیا اور اس کی کیا وجہ بنی اور کس طرح ان کو آنحضرت صلی الیکم کے بارے میں غیرت آئی جب ابو جہل نے آنحضرت صلی علیکم کے اوپر زیادتی کی تھی۔بہر حال اس واقعہ کا ذکر اس طرح ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ کی صفا اور مر وہ پہاڑیوں کے درمیان ایک پتھر پر بیٹھے تھے اور یقینا یہی سوچ رہے تھے کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو کس طرح قائم کیا جائے کہ اتنے میں ابو جہل آگیا۔اس نے آتے ہی کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم اپنی باتوں سے باز نہیں آتے۔یہ کہہ کر اس نے آپ کو سخت غلیظ گالیاں دینی شروع کیں۔آپ خاموشی کے ساتھ اس کی گالیوں کو سنتے رہے اور برداشت کیا۔ایک لفظ بھی آپ نے منہ سے نہیں نکالا۔ابو جہل جب جی بھر کے گالیاں دے چکا تو اس کے بعد وہ بد بخت آگے بڑھا اور اس نے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔مگر آپ صلی علی کریم نے پھر بھی اسے کچھ نہیں کہا۔آپ جس جگہ بیٹھے تھے اور جہاں ابو جہل نے گالیاں دی تھیں وہاں سامنے ہی حضرت حمزہ کا گھر تھا۔حضرت حمزہ اس وقت تک ابھی ایمان نہیں لائے تھے۔ان کا معمول تھا کہ روزانہ صبح تیر کمان لے کر شکار پہ چلے جایا کرتے تھے اور شام کو واپس آتے تھے اور پھر قریش کی جو مجالس تھیں ان میں بیٹھا کرتے تھے۔اس دن جب ابو جہل نے رسول کریم صلی للی یم کو گالیاں دیں اور بڑائبر اسلوک کیا تو وہ شکار پر گئے ہوئے تھے لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ جب ابو جہل یہ سب کچھ کر رہا تھا تو حضرت حمزہ کے خاندان کی ایک لونڈی دروازے میں کھڑی ہو کر یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔ابو جہل جب بار بار آپ پر حملہ کر رہا تھا اور بے تحاشا گالیاں آپ کو دے رہا تھا۔آپ خاموشی اور سکون سے اس کی گالیوں کو برداشت کر رہے تھے۔وہ لونڈی دروازے میں کھڑی ہو کر یہ سارا نظارہ دیکھتی رہی۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ وہ بیشک ایک عورت تھی اور کافرہ تھی لیکن پرانے زمانے میں جہاں مکہ کے لوگ اپنے غلاموں پر ظلم کرتے تھے وہاں یہ بھی ہو تا تھا کہ بعض شرفاء اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتے تھے اور آخر کافی عرصہ کے بعد وہ غلام اسی خاندان کا ایک حصہ سمجھے جاتے تھے۔اسی طرح وہ بھی حضرت حمزہ کے خاندان کی لونڈی تھی۔جب اس نے یہ سارا نظارہ دیکھا۔اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا اپنے کانوں سے سب کچھ سنا تو اس پر بہت اثر ہوا مگر کچھ کر نہیں سکتی تھی۔دیکھتی رہی سنتی رہی اور اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی رہی، کڑھتی رہی ، جلتی رہی۔جب رسول کریم صلی علیہ کام وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو وہ بھی اپنے کام کاج میں لگ گئی۔شام کو جب حضرت حمزہ اپنے شکار سے واپس آئے اور اپنی سواری سے اترے اور تیر کمان کو ہاتھ میں پکڑے اپنی بڑی بہادری کا، ایک فخر کا انداز دکھاتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو وہ لونڈی اس وقت اٹھی۔اس نے بڑی دیر سے اپنے غصے اور غم کے جذبات اس وقت دبائے ہوئے تھے۔اس نے بڑے زور سے حضرت حمزہ کو کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔حمزہ یہ سن الله سة۔