اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 241

تاب بدر جلد 4 241 کے آزاد کرنے کی منت مانی ہوئی ہے میں تجھے اس کے بدلے میں چھوڑتا ہوں۔گویا ان ستر صحابہ میں صرف دو شخص بچے۔ایک یہی عمرو بن امیہ ضمری اور دوسرے کعب بن زید جسے کفار نے مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔بئر معونہ کے موقعہ پر شہید ہونے والے صحابہ میں حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام اور اسلام کے دیرینہ فدائی عامر بن فہیرہ بھی تھے۔انہیں ایک شخص جبار بن سلمی نے قتل کیا تھا۔جبار بعد میں مسلمان ہو گیا اور وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فہیرہ کو شہید کیا تو ان کے منہ سے بے اختیار نکلا فزت واللہ یعنی ” خدا کی قسم میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوں۔“ جبار کہتے ہیں کہ میں یہ الفاظ سن کر متعجب ہوا کہ میں نے تو اس شخص کو قتل کیا ہے اور وہ یہ کہ رہا ہے کہ میں مراد کو پہنچ گیا ہوں۔یہ کیا بات ہے۔چنانچہ میں نے بعد میں لوگوں سے اس کی وجہ پوچھی تو مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان لوگ خدا کے رستے میں جان دینے کو سب سے بڑی کامیابی خیال کرتے ہیں اور اس بات کا میری طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ آخر اسی اثر کے ماتحت میں مسلمان ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو واقعہ رجیع اور واقعہ بئر معونہ کی اطلاع قریباً ایک ہی وقت میں ملی اور آپ کو اس کا سخت صدمہ ہوا۔حتی کہ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسا صدمہ نہ اس سے پہلے آپ کو کبھی ہوا تھا اور نہ بعد میں کبھی ہوا۔واقعی قریباً اسی صحابیوں کا اس طرح دھوکے کے ساتھ اچانک مارا جانا اور صحابی بھی وہ جو اکثر حفاظ قرآن میں سے تھے اور ایک غریب بے نفس طبقہ ނ تعلق رکھتے تھے۔عرب کے وحشیانہ رسم ورواج کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو یہ خبر گویا استی بیٹوں کی وفات کی خبر کے مترادف تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کیونکہ ایک روحانی انسان کے لئے روحانی رشتہ یقیناً اس سے بہت زیادہ عزیز ہوتا ہے جتنا کہ ایک دنیادار شخص کو دنیاوی رشتہ عزیز ہوتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حادثات کا سخت صدمہ ہوا مگر اسلام میں بہر صورت صبر کا حکم ہے آپ نے یہ خبر سن کر انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور پھر یہ الفاظ فرماتے ہوئے خاموش ہو گئے کہ هَذَا عَمَلُ آبِي بَرَاءَ وَقَدْ كُنْتُ لِهَذَا كَارِ ما مُتَخَوْفًا یعنی ”یہ ابو براء کے کام کا ثمرہ ہے ورنہ میں تو ان لوگوں کے بھیجوانے کو پسند نہیں کرتا تھا اور اہل مسجد کی طرف سے ڈرتا تھا۔574