اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 240

اصحاب بدر جلد 4 240 آگے گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔جب حرام بن ملحان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اینچی کے طور پر عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے شروع میں تو منافقانہ طور پر آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے کسی آدمی کو اشارہ کر کے اس بے گناہ اینچی کو پیچھے کی طرف سے نیزہ کا وار کر کے وہیں ڈھیر کر دیا۔اس وقت حیرام بن ملحان کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔الله اكبر افزتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ یعنی “اللہ اکبر ! کعبہ کے رب کی قسم ! میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا۔” عامر بن طفیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایچی کے قتل پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ اس کے بعد اپنے قبیلہ بنو عامر کے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں کی بقیہ جماعت پر حملہ آور ہو جائیں مگر انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ ہم ابو براء کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے۔اس پر عامر نے قبیلہ سلیم میں سے بنور غل اور ذکوان اور خصیہ وغیرہ کو (وہی جو بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کر آئے تھے ) اپنے ساتھ لیا اور یہ سب لوگ مسلمانوں کی اس قلیل اور بے بس جماعت پر حملہ آور ہو گئے۔مسلمانوں نے جب ان وحشی درندوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ان سے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی تعرض نہیں ہے۔ہم تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک کام کے لئے آئے ہیں اور ہم تم سے لڑنے کے لئے نہیں آئے۔مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور سب کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ان صحابیوں میں سے جو اس وقت وہاں موجود تھے صرف ایک شخص بچا جو پاؤں سے لنگڑا تھا اور پہاڑی کے اوپر چڑھ گیا ہوا تھا۔اس صحابی کا نام کعب بن زید تھا اور بعض روایات سے پتہ لگتا ہے کہ کفار نے اس پر بھی حملہ کیا تھا جس سے وہ زخمی ہوا اور کفار اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے مگر دراصل اس میں جان باقی تھی اور وہ بچ گیا۔صحابہ کی اس جماعت میں سے دو شخص یعنی عمرو بن امیہ ضمری اور مُنذر بن محمد اس وقت اونٹوں وغیرہ کے چرانے کے لئے اپنی جماعت سے الگ ہو کر ادھر ادھر گئے ہوئے تھے انہوں نے دُور سے اپنے ڈیرہ کی طرف نظر ڈالی تو کیا دیکھتے ہیں کہ پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔وہ ان صحرائی اشاروں کو خوب سمجھتے تھے۔فوراً تاڑ گئے کہ کوئی لڑائی ہوئی ہے۔واپس آئے تو ظالم کفار کے کشت و خون کا کارنامہ آنکھوں کے سامنے تھا۔دُور سے ہی یہ نظارہ دیکھ کر انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ایک نے کہا کہ ہمیں یہاں سے فوراًبھاگ نکلنا چاہئے اور مدینہ میں پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دینی چاہئے مگر دوسرے نے اس رائے کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں تو اس جگہ سے بھاگ کر نہیں جاؤں گا جہاں ہمارا امیر منذر بن عمر و شہید ہوا ہے۔چنانچہ وہ آگے بڑھ کر لڑا اور شہید ہوا اور دوسرے کو جس کا نام عمر و بن امیہ ضمری تھا کفار نے پکڑ کر قید کر لیا اور غالباً اسے بھی قتل کر دیتے مگر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ قبیلہ مضر سے ہے تو عامر بن طفیل نے عرب کے دستور کے مطابق اس کے ماتھے کے چند بال کاٹ کر اسے رہا کر دیا اور کہا کہ میری ماں نے قبیلہ مصر کے ایک غلام