اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 222
اصحاب بدر جلد 4 222 بری بات کی تعلیم نہیں دی اور نہ کسی اچھی بات سے روکا ہے۔آنحضرت ملی ایم کے خط کو عزت دینا اور آپ کی خدمت میں جوابی خط پھر اس نے آنحضرت صلی علیہ کم کا خط ایک ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں رکھ کر اس پر اپنی مہر لگائی اور اسے حفاظت کے لئے اپنے گھر کی ایک معتبر لڑکی کے سپرد کر دیا۔بہر حال اس خط سے اس نے عزت کا سلوک کیا۔اس کے بعد مقوقس نے اپنے ایک عربی دان کا تب کو بلایا اور آنحضرت علی ایم کے نام خط لکھوایا اور خط لکھوا کر حاطب کے حوالے کیا۔اس خط کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ : خدا کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے یہ خط محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام قبطیوں کے رئیس مقوقس کی طرف سے ہے آپ پر سلامتی ہو۔میں نے آپ کا خط اور آپ کے مفہوم کو سمجھا اور آپ کی دعوت پر غور کیا۔میں یہ ضرور جانتا تھا کہ ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے مگر میں خیال کرتا تھا کہ وہ ملک شام میں پید اہو گا نہ کہ عرب میں ) اور میں آپ کے سفیر کے ساتھ عزت سے پیش آیا ہوں اور میں اس کے ساتھ دولڑ کیاں بھجوا رہا ہوں جنہیں قبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل ہے۔یہ اعلیٰ خاندان کی لڑکیاں ہیں اور میں کچھ پار چات بھی بھجوا رہاہوں اور آپ کی سواری کے لئے خچر بھی بھجوار ہا ہوں۔والسلام۔اس کے بعد اس کے دستخط۔اس خط سے ظاہر ہے کہ مقوقس مصر آنحضرت صلی علیم کے اچھی کے ساتھ عزت سے پیش آیا اور اس نے آپ صلی علیم کے دعوی میں ایک حد تک دلچسپی بھی لی مگر بہر حال اس نے اسلام قبول نہیں کیا اور دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ عیسائی مذہب پر ہی اس کی وفات ہوئی۔اس کی گفتگو کے انداز سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ بیشک مذہبی امور میں دلچپسی تولیتا تھا مگر جو سنجیدگی اس معاملے میں ضروری ہے وہ اسے حاصل نہیں تھی۔اس لئے اس نے بظاہر مؤدبانہ رنگ رکھتے ہوئے بھی آنحضرت صلی یکی کی دعوت کو ٹال دیا۔جو دو لڑکیاں مقوقس نے بھجوائی تھیں ان میں سے ایک کا نام ماریہ اور دوسری کا نام سیرین تھا اور یہ دونوں آپس میں بہنیں تھیں اور جیسا کہ مقوقس نے اپنے خط میں لکھا تھاوہ قبطی قوم میں سے تھیں اور یہ وہی قوم ہے جس سے خود مقوقس کا تعلق تھا اور یہ لڑکیاں عام لوگوں میں سے نہیں تھیں بلکہ مقوقس کی اپنی تحریر کے مطابق انہیں قبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ دراصل معلوم ہوتا ہے کہ مصریوں میں یہ پرانا دستور تھا کہ اپنے ایسے معزز مہمانوں کو جن کے ساتھ وہ تعلقات بڑھانا چاہتے تھے رشتہ کے لئے اپنے خاندان یا اپنی قوم کی شریف لڑکیاں پیش کر دیتے تھے تاکہ ان سے شادی ہو جائے۔آپ لکھتے ہیں کہ چنانچہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مصر میں تشریف لے گئے تو مصر کے رئیس نے انہیں بھی ایک شریف لڑکی یعنی حضرت ہاجرہ رشتہ کے لئے پیش کی تھی جو بعد میں حضرت اسماعیل اور ان کے ذریعہ بہت سے عرب قبیلوں کی ماں بنی۔بہر حال مقوقس کی بھجوائی ہوئی لڑکیوں کے مدینہ پہنچنے پر آنحضرت صلی اللہ ہم نے حضرت ماریہ کو تو خود اپنے عقد میں لے لیا اور ان کی بہن سیرین کو عرب کے مشہور شاعر حسان بن ثابت کے عقد میں دے دیا۔یہ ماریہ وہی