اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 187

تاب بدر جلد 4 187 تاریخ میں آتا ہے کہ جنگ موتہ کے موقع پر جب مسلمانوں نے دشمن کا لشکر دیکھا تو اس کی تعد اد اور ساز و سامان کو دیکھ کر انہوں نے گمان کیا کہ اس لشکر کا کوئی مقابلہ نہیں۔تو حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جنگ موتہ میں شرکت کی۔جب دشمن ہمارے قریب آیا تو ہم نے دیکھا کہ تعداد، اسلحہ ، گھوڑوں اور سونے اور ریشم وغیرہ میں اس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔یہ دیکھ کر میری آنکھیں چندھیا گئیں۔اس پر حضرت ثابت بن اقرم نے مجھ سے کہا کہ اے ابو ہریرہ ! تیری حالت ایسی لگتی ہے جیسے تو نے کوئی بہت بڑا لشکر دیکھ لیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے کہا ہاں۔اس پر حضرت ثابت نے کہا کہ تم ہمارے ساتھ بدر میں شامل نہیں ہوئے۔ہمیں وہاں بھی کثرت تعداد کے ذریعہ فتح نہیں ملی تھی۔7 بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملی تھی اور یہاں بھی یہی ہو گا۔467 واقعہ شہادت حضرت ابو بکر کی خلافت میں حضرت خالد بن ولید کے ساتھ آپ مرتدین کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت خالد بن ولید لوگوں کے مقابلہ پر روانہ ہوتے وقت اگر اذان سنتے تو حملہ نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو حملہ کر دیتے۔جب آپ اس قوم کی طرف پہنچے جو بزاخہ مقام میں تھی تو آپ نے حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم کو مخبر بنا کر بھیجا کہ دشمن کی خبر لائیں اور وہ دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔حضرت عکاشہ کے گھوڑے کا نام الزرام تھا اور حضرت ثابت کے گھوڑے کا نام الحبر تھا۔بہر حال ان دونوں کا سامنا طلیحہ اور اس کے بھائی سلمہ سے ہوا۔یہ انہی کی طرح مخبری کرنے کے لئے آگے آئے ہوئے تھے ، اپنے لشکر سے آگے آئے ہوئے تھے۔طلیحہ کا سامنا حضرت عکاشہ سے ہوا اور سلمہ کا حضرت ثابت سے۔اور یہ جو بھائی تھے ان دونوں نے ان دونوں صحابہ کو شہید کر دیا۔ابو واقد کیفی سے ایک روایت ہے کہ ہم دو سو سوار کن رلشکر کے آگے آگے چلنے والے تھے اور زید بن خطاب ہمارے امیر تھے اور ثابت اور عکاشہ ہمارے آگے تھے۔جب ہم لوگ ان کے پاس سے گزرے تو ہمیں یہ منظر شدید ناگوار گزرا۔( ان کی شہادت کے بعد جب پیچھے سے یہ لشکر گزرا۔) حضرت خالد اور باقی مسلمان ہمارے پیچھے تھے۔ہم ان مقتولوں کے پاس کھڑے رہے، یہ جو شہید ہوئے تھے یہاں تک کہ حضرت خالد آئے اور ان کے حکم سے ہم نے ثابت اور عکاشہ کو ان کے خون آلود کپڑوں میں وہیں دفن کر دیا۔468 حضرت عمرؓ کے دکھ کا اظہار روایت میں آتا ہے کہ جب طلیحہ مسلمان ہوئے تو حضرت امیر المومنین عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ میں تم سے محبت نہیں کروں گا تم دو مسلمان حضرت عکاشہ اور حضرت ثابت بن اقرم کے شہید ہونے کی وجہ ہو۔یہ شہید کرنے والے جو تھے بعد میں مسلمان بھی ہو گئے تو ان کو حضرت عمرؓ نے یہ جواب دیا کہ تمہارے سے محبت نہیں مجھ کو ہو سکتی کیونکہ تم دو مسلمانوں کو شہید کرنے والے ہو۔اس پر طلیحہ نے کہا کہ یا امیر