اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 4

اسلام : بدر جلد 4 4 پھیلنے لگا تو کندہ قبیلہ کی ایک عورت جس کا اسماء یا امیمہ نام تھا اور وہ جونیہ یابنتُ الجون بھی کہلاتی تھی۔اس کا بھائی لقمان رسول کریم صلی علی یکم کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے بطور وفد حاضر ہوا اور اس موقع پر اس نے یہ بھی خواہش کی کہ اپنی ہمشیرہ کی شادی رسول کریم صلی علیم سے کر دے اور بالمشافہ رسول کریم صلی کم سے درخواست بھی کر دی کہ میری بہن جو پہلے ایک رشتہ دار سے بیاہی ہوئی تھی اب الله سة بیوہ ہے اور نہایت خوبصورت اور لائق بھی ہے آپ اس سے شادی کر لیں۔رسول کریم صلی یکم کو چونکہ قبائل عرب کا اتحاد منظور تھا اس لئے آپ نے اس کی یہ دعوت منظور کر لی اور فرمایا کہ ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی پر نکاح پڑھ دیا جائے۔اس نے کہا یا رسول اللہ ہم معزز لوگ ہیں۔بڑے رئیس لوگ ہیں یہ مہر تھوڑا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس سے زیادہ میں نے اپنی کسی بیوی یا لڑکی کا مہر نہیں باندھا۔جب اس نے رضامندی کا اظہار کر دیا اور اس نے کہا ٹھیک ہے تو نکاح پڑھا گیا اور اس نے رسول کریم صلی علیم سے درخواست کی کہ کسی آدمی کو بھیج کر اپنی بیوی منگوا لیجئے۔آپ صلی اللہ ہم نے ابواسید کو اس کام پر مقرر کیا۔وہ وہاں تشریف لے گئے۔جونیہ نے ان کو اپنے گھر بلایا تو حضرت اُسید نے کہا کہ رسول کریم صلی الی کم کی بیویوں پر حجاب نازل ہو چکا ہے۔اس پر اس نے دوسری ہدایات دریافت کیں جو آپ نے انہیں بتا دیں اور اونٹ پر بٹھا کر مدینہ لے آئے اور ایک مکان میں جس کے گرد کھجوروں کے درخت بھی تھے لا کر اتارا۔اس عورت کے ساتھ جس کی شادی ہوئی تھی اس کی دایہ بھی اس کے رشتہ داروں نے روانہ کی تھی۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ جس طرح ہمارے ملکوں میں بھی ایک بے تکلف نو کر ساتھ جاتی ہے۔بڑے لوگ، امیر لوگ بھیجا کرتے تھے اس زمانے میں۔اب تو یہ رواج نہیں، پرانے زمانے میں ہو تا تھا تا کہ اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔چونکہ یہ عورت جو تھی جس سے آنحضرت صلی علیم کی شادی ہوئی تھی یا جس کے بھائی نے رشتہ پیش کیا تھا، شادی کی خواہش کی تھی اور پھر نکاح بھی ہو گیا تھا یہ عورت بڑی حسین مشہور تھی اور یوں بھی عورتوں کو دلہن دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔محلے کی، قریب کی جو دوسری عور تیں ہوتی ہیں جب کوئی نو بیاہتا دلہن آئے تو انہیں اس کو دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔مدینہ کی عورتیں بھی اس عورت کو دیکھنے گئیں۔اس کی خوبصورتی بڑی مشہور تھی اور اس عورت کے بیان کے مطابق کسی عورت نے اس کو سکھا دیا کہ رعب پہلے دن ہی ڈالا جاتا ہے۔جب رسول کریم صلی علی کرم تیرے پاس آئیں تو تو کہہ دیجیو کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔اس پر وہ تیرے زیادہ گرویدہ ہو جائیں گے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اگر یہ بات اس عورت کی بنائی ہوئی نہیں تو کچھ تعجب نہیں کہ کسی منافق نے اپنی بیوی یا اور کسی رشتہ دار کے ذریعہ یہ شرارت کی ہو۔غرض جب اس کی آمد کی اطلاع رسول اللہ صلی ایم کو ملی تو آپ اس گھر کی طرف تشریف لے گئے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔احادیث میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی علیم اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اس سے فرمایا کہ تو اپنا نفس مجھے ہبہ کر دے۔اس نے جواب دیا کہ کیا ملکہ تبھی اپنے آپ کو عام آدمیوں کے سپرد کیا کرتی ہے ؟ ابو اسید کہتے ہیں کہ اس پر رسول کریم صلی اللہ ہم نے اس خیال سے کہ اجنبیت کی وجہ سے گھبرارہی