اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 168

اصحاب بدر جلد 4 168 وہ کہتے اَشهَدُ أَن لَّا إِلهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اب جبکہ اسلامی لشکر دس ہزار کی تعداد میں داخل ہونے کے لیے آیا تو بلال کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ آج ان بوٹوں کا بدلہ لیا جائے گا جو میرے سینے پر ناچتے تھے۔آج ان ماروں کا معاوضہ بھی مجھے ملے گا جس طرح مجھے ظالمانہ طور پر مارا گیا تھا لیکن جب رسول اللہ کی ایم نے فرمایا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ معاف۔جو خانہ کعبہ میں داخل ہو گیا وہ معاف۔جس نے اپنے ہتھیار پھینک دیے وہ معاف۔جس نے اپنے گھر کے دروازے بند کر لیے وہ معاف تو بلال کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ یہ تو اپنے سارے بھائیوں کو معاف کر رہے ہیں اور اچھا کر رہے ہیں لیکن میر ابدلہ تو رہ گیا۔رسول کریم صلی الم نے دیکھا کہ آج صرف ایک شخص ہے جس کو میرے معاف کرنے سے تکلیف پہنچ سکتی ہے اور وہ بلال ہے کہ جن کو میں معاف کر رہا ہوں وہ اس کے بھائی نہیں۔جو اس کو دکھ دیا گیا ہے وہ اور کسی کو نہیں دیا گیا۔آپؐ نے فرمایا میں اس کا بدلہ لوں گا اور اس طرح لوں گا کہ میری نبوت کی بھی شان باقی رہے اور بلال کا دل بھی خوش ہو جائے۔آپ نے فرمایا بلال کا جھنڈ ا کھڑا کرو اور ان مکہ کے سرداروں کو جو جو تیاں لے کر اس کے سینے پر ناچا کرتے تھے ، جو اس کے پاؤں میں رسی ڈال کر گھسیٹا کرتے تھے ، جو اسے تپتی ریتوں پر لٹایا کرتے تھے کہہ دو کہ اگر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان بچانی ہے تو بلال کے جھنڈے کے نیچے آ جاؤ۔میں سمجھتا ہوں جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، جب سے انسان کو طاقت حاصل ہوئی ہے اور جب سے کوئی انسان دوسرے انسان سے اپنے خون کا بدلہ لینے پر تیار ہوا ہے اور اس کو طاقت ملی ہے اس قسم کا عظیم الشان بدلہ کسی انسان نے نہیں لیا۔جب بلال کا جھنڈ ا خانہ کعبہ کے سامنے میدان میں گاڑا گیا ہو گا۔جب عرب کے رؤساء، وہ رؤساء جو اس کو پیروں سے مسلا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ بولتا ہے کہ نہیں کہ محمد رسول اللہ جھوٹا ہے۔اور اب جب نظارہ بدلا، جب حالات بدلے تو اب وہ دوڑ دوڑ کر اپنے بیوی بچوں کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر اور لالا کر بلال کے جھنڈے کے نیچے لاتے ہوں گے کہ ہماری جان بچ جائے۔تو اس وقت بلال کا دل اور اس کی جان کس طرح محمد رسول اللہ صلی علی کم پر نچھاور ہو رہی ہو گی۔وہ کہتا ہو گا میں نے تو خبر نہیں ان کفار سے بدلہ لینا تھا یا نہیں یا لے سکتا تھا کہ نہیں اب وہ بدلہ لے لیا گیا ہے کہ ہر شخص جس کی جوتیاں میرے سینے پر پڑتی تھیں اس کے سر کو میری جوتی پر جھکا دیا گیا ہے۔یہ وہ بدلہ ہے کہ وہ جو تیاں جو سینے پر ناچا کرتی تھیں آج ان کو پہنے والے سر بلال کی جوتی پر جھکا دیے گئے ہیں۔یہ وہ بدلہ تھا جو یوسف کے بدلہ سے بھی زیادہ شاندار تھا۔اس لیے کہ یوسف نے اپنے باپ کی خاطر اپنے بھائیوں کو معاف کیا تھا۔جس کی خاطر کیا وہ اس کا باپ تھا اور جن کو کیا وہ اس کے بھائی تھے اور محمد رسول اللہ صلی علیم نے اپنے چوں اور بھائیوں کو ایک غلام کی جوتیوں کے طفیل معاف کیا۔بھلا یوسف کا بدلہ اس کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔3 پہلا جو حوالہ تھا سیر روحانی کا تھا۔اسی واقعہ کو دیباچہ تفسیر القرآن میں بھی اختصار کے ساتھ بیان 423