اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 165
بدر جلد 4 165 تھے۔حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علم فتح مکہ کے روز مکہ میں آئے اور حضرت عثمان بن طلحہ کو بلایا۔انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی صلی للی کم اور حضرت بلال اور حضرت اسامہ بن زید اور ) حضرت عثمان بن طلحہ اندر گئے اور پھر دروازہ بند کر دیا اور آپ اس میں کچھ دیر ٹھہرے۔پھر نکلے۔حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے کہ میں جلدی سے آگے بڑھا اور حضرت بلال سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔یعنی رسول کریم صلی للی تم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔میں نے کہا کس جگہ ؟ کہا ان ستونوں کے درمیان۔حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے مجھ سے رہ گیا کہ میں ان سے پوچھوں کہ آپ نے کتنی رکعتیں نماز پڑھی ہے۔421 الله حضرت بلال لوگوں کو بعد میں بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیم نے خانہ کعبہ کے اندر کس جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھی تھی۔حضرت ابنِ ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی علیم نے حضرت بلال کو کعبے کی چھت پر اذان دینے کا حکم دیا۔اس پر حضرت بلال نے کعبے کی چھت پر اذان دی۔422 فتح مکہ اور حضرت بلال کا جھنڈا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فتح مکہ کے موقع پر حضرت بلال کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عباس ابوسفیان کو لے کر رسول کریم صلی علیہ نیم کی مجلس میں حاضر ہوئے۔رسول کریم صلی ہی ہم نے ابوسفیان کو دیکھا اور فرمایا: تیر ابراحال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ خدا ایک ہے ؟ ابوسفیان نے کہا یقین کیوں نہیں آیا اگر کوئی دوسر اخد ا ہو تا تو ہماری مدد نہ کرتا !۔آپ نے فرمایا: تیر ابر احال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ محمد اللہ کا رسول ہے؟ کہنے لگا ابھی اس کے متعلق یقین نہیں ہوا۔حضرت عباس نے ابوسفیان کو کہا کمبخت ! بیعت کر لو۔اس وقت تیری اور تیری قوم کی جان بچتی ہے۔کہنے لگا اچھا۔کر لیتا ہوں۔وہاں تو اس نے یونہی بیعت کر لی۔ان کے کہنے پر بیعت کر لی۔کوئی دل سے بیعت نہیں تھی لیکن بعد میں جا کر سچا مسلمان ہو گیا۔خیر بیعت کر لی تو عباس کہنے لگے۔اب مانگ اپنی قوم کے لیے ورنہ تیری قوم ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جائے گی۔مہاجرین کا دل اس وقت ڈر رہا تھا۔وہ تو مکہ کے رہنے والے تھے اور سمجھتے تھے کہ ایک دفعہ مکہ کی عزت ختم ہوئی تو پھر مکہ کی عزت باقی نہیں رہے گی۔وہ باوجود اس کے کہ انہوں نے بڑے بڑے مظالم برداشت کیے تھے۔پھر بھی وہ دعائیں کرتے تھے کہ کسی طرح صلح ہو جائے۔لیکن انصار ان کے مقابلے میں بڑے جوش میں تھے۔محمد رسول اللہ صلی للی یم نے کہا کہ مانگو۔کہنے لگا یارسول اللہ ! کیا آپ اپنی قوم پر رحم نہیں کریں گے۔آپ صلی علیہ کی تو بڑے رحیم و کریم ہیں اور پھر میں آپ کارشتہ دار ہوں۔بھائی ہوں۔میرا بھی کوئی اعزاز ہونا چاہیے۔میں مسلمان ہوا ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا جاؤ اور مکہ میں اعلان کر دو کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں گھسے گا اسے پناہ دی جائے گی۔کہنے لگا یار سول اللہ امیر اگھر ہے کتنا اور اس میں کتنے آدمی آسکتے ہیں؟ اتنابڑا شہر ہے، اس کا میرے گھر میں کہاں ٹھکانہ ہو