اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 146
146 تاب بدر جلد 4 کیا۔(وہ بھی بخاری کی روایت ہے اور یہ بھی) اس پر میری والدہ عمرہ بنتِ رَوَاحَہ نے کہا میں راضی نہ ہوں گی جب تک تم رسول اللہ صلی علی یم کو گواہ نہ ٹھہراؤ۔میرے والد نبی صلی یکم کے پاس گئے تا کہ وہ آپ کو میرے عطیہ پر گواہ بنائیں جو مجھے دیا تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ تم نے اپنے سب بچوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے۔ہر ایک کو اتنا ہی مال دیا ہے یا جو بھی وہ چیز تھی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی اولاد سے عدل کا سلوک کرو۔میرے والد واپس آئے اور وہ عطیہ واپس لے لیا۔366 صحیح مسلم کی روایت میں یہ ہے کہ آنحضور صلی علی کرم نے فرمایا کہ مجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔367 ہیہ کے مسئلہ پر حضرت مصلح موعودؓ کی ایک عمدہ وضاحت اس کی اس مسئلے کی یا اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے، تشریح کرتے ہوئے یا اس طرح کے ہبہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی عمدہ وضاحت فرمائی ہے جو بڑی اچھی رہنمائی ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ رسول کریم ملی ییلی کم کا یہ ارشاد اہم اشیاء کے متعلق ہے۔چھوٹی موٹی چیزوں کے متعلق نہیں ہے۔مثلاً اگر ہم کیلا کھا رہے ہوں تو ہو سکتا ہے کہ بچہ جو سامنے موجود ہو اسے ہم دے دیں اور دوسرا محروم رہے۔حدیثوں میں گھوڑے کی مثال آتی ہے یا مال کی مثال آتی ہے یا غلام کی کوئی ایسی قیمتی چیز ہے کہ رسول کریم صلی علیم نے ایک شخص سے فرمایا کہ یا تو وہ اپنے سب بیٹوں کو ایک گھوڑا دے یا کسی کو بھی نہ دے مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ عربوں میں گھوڑے کی قیمت بہت ہوتی تھی یا غلام ہے تو غلام بھی ایک جائیداد سمجھا جاتا تھا یا کسی بھی قسم کا مال، جو قیمتی چیز ہے۔تو اس لئے اس کے لئے منع کیا گیا ہے۔اور گھوڑا بھی عربوں میں بڑی قیمتی چیز تھی) پس یہ حکم ان چیزوں سے متعلق ہے جس میں ایک دوسرے سے بغض پیدا ہونے کا امکان ہو۔ایک بچے کو دے دیا دوسرے کو نہ دیا تو ایک دوسرے کے خلاف دل میں آپس میں رنجشیں پیدا ہو سکتی ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ معمولی چیزوں کے متعلق نہیں ہے مثلاً فرض کرو کہ بازار گئے ہیں ایک بچہ ہمارے ساتھ چلا جاتا ہے اور ہم اسے دوکان سے کوٹ کا کپڑا خرید دیتے ہیں تو یہ بالکل جائز ہو گا اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب تک ساروں کے لیے ہم کوٹ خرید کر نہ لائیں ایک بچے کو بھی کوٹ کا کپڑا خرید کر نہیں دیا جاسکتا۔آپ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں بعض دفعہ کوئی تحفہ آتا ہے تو ایک بچہ جو ہمارے سامنے ہوتا ہے وہ کہتا ہے یہ مجھے دے دیا جائے اور ہم وہ تحفہ اسے دے دیتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ ہم دوسرے کو محروم رکھتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی اور تحفہ آیا تو پھر دوسرے کی باری آجائے گی۔پس یہ حکم چھوٹی چھوٹی چیزوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ بڑی بڑی چیزوں کے متعلق ہے جن میں امتیازی سلوک کرنے سے آپس میں بغض اور عناد پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میرا تو یہ طریق ہے کہ جب