اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 140
اصحاب بدر جلد 4 140 حضرت ابو طلحہ کہتے ہیں اور یہ بخاری کی حدیث میں ہے کہ اُحد کے دن عین جنگ میں ہم کو اونگھ نے آدبایا اور یہ وہ اونگھ ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی تھی۔میں تھام لیتا تھا۔پس یہ حدیث بتارہی ہے کہ ایسی نیند کی کیفیت نہیں تھی کہ ہاتھوں سے چیزیں نیچے جا پڑیں یا چلتے چلتے ہم گر جائیں۔تسکین تھی، سکینت تھی مگر پھر بھی ایک حد تک ہمیں اپنے اعضا پر اختیار حاصل تھا۔پھر گرنے کو ہوتی تھی تو پھر تھام لیتے تھے۔یعنی یہ اونگھ کا ایک حصہ کوئی اچانک یوں ہی نہیں آیا بلکہ یہ ایک کیفیت تھی جو ان لوگوں پر کچھ عرصہ چلتی رہی۔ترمذی ابواب التفسیر میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن میں سر اٹھا کر دیکھنے لگا تو ہر آدمی اونگھتے اونگھتے اپنی ڈھال کے نیچے جھک رہا تھا۔جاگنے کی وجہ سے یا تھکاوٹ کی وجہ سے ان صحابہ کی بہت بری حالت ہو گئی تھی اور ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سکون کی کیفیت مل رہی تھی۔کہتے ہیں یعنی ایسا ہی نظارہ ہوا کہ جو عام تھا۔کوئی اتفاقاً ایک تھکے ہوئے مجاہد کے اوپر اطلاق پانے والی کیفیت نہیں تھی۔بلکہ حضرت خلیفہ رابح نے لکھا ہے کہ تمام مجاہدین جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ جنگ میں دشمن کے خلاف بر سر پیکار تھے ان سب پر اچانک گویا آسمان سے ایک چیز اتری ہے اور اس حالت نے اس کو ڈھانپ لیا۔اس وقت ان کو اس چیز کی سکون کی اپنے اعصاب کو ریفریش (Refiesh) کرنے کی، ان کو تازہ دم کرنے کی شدید ضرورت تھی اور سونے کا وقت کوئی نہیں تھا اور جب ایسی حالت ہو جب ایسی تھکاوٹ کی حالت ہو تو ایسی حالت انسانوں پر طاری ہو جاتی ہے۔بہر حال ساری قوم بیک وقت ایک ایسی نیند کی حالت میں چلی جائے جبکہ لڑائی ہو رہی ہو اور دشمن سے سخت خطرہ بھی در پیش ہو یہ اعجاز ہے۔ایک معجزہ ہے۔یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔بعض لوگوں کے ساتھ ہو جاتا ہے یہ لیکن یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ایک معجزہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص سکون کی کیفیت ان کو اس وقت عطا کی گئی تھی۔155 ایک یہودیہ کی طرف سے زہر ملے گوشت کے ذریعہ نبی اکرم علی تم کو قتل کرنے کی سازش حضرت بشر نے غزوہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللی کم کے ہمراہ اس زہر آلود بکری کا گوشت کھا یا جو ایک یہودی عورت نے تحفہ آنحضرت صلی علی کم کو پیش کیا تھا۔جب حضرت بشر نے اپنا لقمہ نگلا تو اس جگہ سے ابھی ہٹے بھی نہ تھے کہ ان کا رنگ تبدیل ہو کر طیلسان ، یہ کپڑا ہے جس میں سیاہ رنگ زیادہ غالب ہوتا ہے ، اس کی طرح ہو گیا۔درد سے ایک سال تک یہ حالت رہی کہ بغیر سہارے کے کروٹ تک نہ بدل سکتے تھے۔پھر اسی حالت میں آپ کی وفات ہو گئی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹے بھی نہیں تھے ، زہر اتنا زیادہ تھا کہ وہیں کھانے کے تھوڑی دیر بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔356