اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 113
اصحاب بدر جلد 4 113 کو لکھتے جاتے تھے۔یہ جماعت چونکہ ارباب علم پر مشتمل تھی اس لیے کسی کسی آیت پر مذاکرہ اور مباحثہ بھی ہوتارہتا تھا۔چنانچہ جب سورۂ توبہ کی آیت کہ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لَا يَفْقَهُونَ لَکھی گئی تو لوگوں نے کہا کہ یہ سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی۔حضرت اُبی نے کہا نہیں۔اس کے بعد دو آیتیں مجھے رسول کریم صلی علی کرم نے پڑھائی تھیں۔یہ آخری نہیں بلکہ یہ آخری دو آیتوں سے پہلے ہے۔285 مجلس شوری کا قیام حضرت عمرؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں سینکڑوں مفید باتوں کا اضافہ فرمایا جس میں ایک مجلس شوریٰ کا قیام بھی تھا۔اسلام میں مجلس شوری کا قیام حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوا۔یہ مجلس انصار اور مہاجرین کے مقتدر اصحاب پر مشتمل تھی جن میں قبیلہ خزرج کی طرف سے حضرت ابی بن کعب بھی ممبر تھے۔286 مسلمانوں کے سردار ایک شخص جن کا نام جابر یا جو سبر تھا بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں اپنے کسی کام کے لیے آپ کے پاس حاضر ہوا۔حضرت عمرؓ کے پہلو میں ایک شخص کھڑا تھا جس کے بال اور کپڑے سفید تھے۔اس نے کہا یقیناً اس دنیا میں ہمارے لیے مقصود تک پہنچنے کے ذرائع اور آخرت کے لیے زادِ راہ موجود ہے اور اسی میں ہمارے وہ اعمال ہیں جن کا بدلہ ہمیں آخرت میں ملے گا۔جابر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا اے امیر المومنین ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ یہ مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب نہیں۔287 عبد الرحمن بن عبد قاری سے روایت ہے کہ میں رمضان کی ایک رات حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ الگ الگ گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔کوئی شخص اپنے طور پر اکیلے نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی شخص ایسے طور پر نماز پڑھ رہا ہے کہ اس کی اقتدا میں چند ایک لوگ نماز پڑھ رہے ہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کو ایک ہی قاری کی اقتدا میں اکٹھا کر دو تو یہ بہتر ہو گا۔پھر انہوں نے پختہ ارادہ کر لیا اور حضرت ابی بن کعب کی اقتدا میں انہیں اکٹھا کیا۔8 یعنی اس وقت وہ رات کو نوافل پڑھ رہے ہوں گے۔288 علم حدیث سے استفادہ حضرت ابی ان بزرگوں میں سے ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی الیہ کمی سے احادیث کا بہت بڑا حصہ سنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابہ درسِ حدیث میں آپ کی شاگردی اختیار کر چکے تھے۔چنانچہ ان کے حلقہ تابعین سے زیادہ صحابہ کا مجمع ہوتا تھا۔صحابہ بھی آپ سے حدیثیں سنا کرتے تھے۔حضرت عمر بن