اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 109

اصحاب بدر جلد 4 109 ایک مرتبہ آنحضرت صلی علیم نے نماز فجر پڑھائی۔اس میں ایک آیت پڑھنا بھول گئے۔حضرت ابی نماز میں شروع سے شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ درمیان میں شریک ہوئے تھے۔نماز ختم کر کے آنحضرت صلی علی یکم نے لوگوں سے پوچھا کہ کسی نے میری قراءت پر خیال کیا تھا؟ تمام لوگ خاموش رہے۔پھر پوچھا ابی بن کعب ہیں ؟ حضرت ابی اس وقت تک نماز ختم کر چکے تھے۔غالباً دوسری رکعت پڑھی ہو گی جو یہ غلطی ہوئی ہوگی یا سہو ہوا ہو گا یا آیت کو بھولے ہوں گے جس کو حضرت ابی بن کعب نے بعد میں شامل ہونے کے بعد بہر حال سن لیا تھا۔ابی نماز ختم کر چکے تھے مگر بولے کہ آپ نے فلاں آیت نہیں پڑھی۔انہوں نے عرض کیا یار سول اللہ ٹھیک ہے آپ نے تلاوت میں فلاں آیت نہیں پڑھی۔کیا یہ منسوخ ہو گئی ہے یا آپ پڑھنا بھول گئے تھے ؟ آنحضرت صلی الم نے فرمایا نہیں، میں پڑھنا بھول گیا تھا۔اس کے بعد فرمایا کہ میں جانتا تھا۔حضرت اُبی کو مخاطب کر کے آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ میں جانتا تھا کہ تمہارے سوا اور کسی کو ادھر خیال نہیں ہو ا ہو گا۔275 رسول الله صلى الله لم کی مقبول دعائیں حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا۔ایک آدمی اندر آیا اور نماز پڑھنے لگا۔پھر اس نے ایسی قراءت کی جو مجھے اوپری لگی۔پھر ایک اور آدمی اندر آیا اس نے اپنے ساتھی کی قراءت سے مختلف قراءت کی۔پھر جب ہم نماز پڑھ چکے تو ہم سب رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔میں نے عرض کیا کہ اس شخص نے ایسی قراءت میں قرآن پڑھا ہے جو مجھے اوپری لگی۔پھر دوسرا شخص آیا اس نے اپنے ساتھی کی قراءت سے مختلف قراءت کی۔رسول اللہ صلی للہ ہم نے ان دونوں کو ارشاد فرمایا کہ اچھا۔کہا اب مجھے پڑھ کے سناؤ۔ان دونوں نے قراءت کی۔قرآن کریم پڑھ کے سنایا۔رسول اللہ صلی علیم نے ان کے پڑھنے کو ٹھیک قرار دیا۔دونوں کو کہا کہ تم دونوں ٹھیک ہو۔اپنی رائے کی تردید پر حضرت ابی کہتے ہیں کہ میں نے جو رائے قائم کی تھی کہ اس نے غلط پڑھا ہے اس کی جب آنحضرت علی الم نے تردید کر دی اور دونوں کو صحیح قرار دے دیا تو میں انتہائی شرمندہ ہوا جو جاہلیت میں بھی نہ ہوا تھا جب مجھے کچھ بھی نہیں پتہ تھا۔ایسی شرمندگی اس وقت مجھے ہوئی کہ کبھی زندگی میں نہیں ہوئی۔جب رسول اللہ صلی علیم نے اس حالت کو دیکھا جو مجھ پر طاری ہوئی تھی، شرمندگی کی کیفیت چہرے سے ظاہر ہو گئی ہو گی، تو آپ صلی علی کم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا۔میں پسینے میں شرابور تھا گویا کہ میں ڈر کی حالت میں اللہ عز و جل کو دیکھ رہا تھا تب رسول اللہ صلی للی تم نے مجھ سے فرمایا کہ اے آئی ! مجھے پیغام بھجوایا گیا کہ میں قرآن کو ایک قراءت میں پڑھوں۔میں نے اس کا جواب دیا کہ میری امت کے لیے آسانی پیدا کر دے۔چنانچہ اس نے مجھے دوسری مرتبہ یہ جواب دیا کہ میں اسے یعنی قرآن کو دو قراءتوں میں پڑھوں۔پھر میں نے عرض کیا کہ میری امت کے لیے آسانی فرما دے۔پھر اس نے