اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 89
اب بدر جلد 4 89 میں کسی سے جنگ کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ اس غزوہ میں شامل لوگ قافلہ تجارت کی حفاظت کی غرض سے بھیجے گئے تھے۔یہ مہم بقول ابن سعد تین سو مہاجر و انصار پر مشتمل تھی۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح اس کے امیر تھے اور غزوہ سیف البحر کے نام سے مشہور ہے۔یہاں بحیرہ قلزم کے قریب کاروان چلتے تھے تو کاروانی راستہ کے قریب بحیرہ قلزم کے کنارے حفاظتی چوکی قائم کی گئی تھی۔قافلوں کا جو رستہ چلتا تھا ان کے قریب بحیرہ قلزم کے کنارے ایک حفاظتی چوکی قائم کی گئی تھی اس لیے غزوہ سیف البحر سے موسوم ہے۔یہ فوج بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ وہاں ایک چوکی قائم کی جائے جو حفاظت کی غرض سے ہو اور آگے پتہ لگے گا کہ حفاظت کس کی کرنی تھی۔سیف کے معنی ساحل کے ہیں۔ابنِ سعد نے سریۃ الحبط کے عنوان سے اس کا مختصر ذکر کیا ہے۔خبط کے معنی ہیں درخت کے پتے۔زادِ راہ ختم ہونے کی وجہ سے مجاہدین کو پتے کھانے پڑے تھے۔ابن سعد نے تاریخ وقوع رجب آٹھ ہجری بتائی ہے اور یہ زمانہ ھد نہ یعنی صلح حدیبیہ کا تھا۔آنحضرت صلی علیم نے دور اندیشی سے کام لیا اور بطور احتیاط مذکورہ بالا حفاظتی دستہ علاقہ سیف البحر میں بھیجا تھا۔جو چو کی قائم کروائی گئی تھی وہاں حفاظتی دستہ کے طور پہ بھیجا تا شام سے آنے والے قریشی قافلے سے تعرض نہ ہو، شام سے جو قریش کا تجارتی قافلہ آرہا تھا اس سے کوئی چھیٹر چھاڑ نہ ہو اور قریش کے ہاتھ میں نقض معاہدہ کا کوئی بہانہ نہ مل جائے۔صلح حدیبیہ ہو چکی تھی۔اب یہ تھا کہ یہ نہ ہو وہاں کوئی ان کو چھیڑ دے اور قریش بہانہ بنا دیں کہ دیکھو مسلمانوں نے ہم پر حملہ کیا اس لیے حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہو گیا۔تو اس لیے آپ نے وہ بھیجا تھا۔وہاں چوکی قائم کر دی تاکہ قریش کے اس قافلے کی حفاظت کرے اور کوئی بہانہ نہ ملے۔پھر لکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا جگہ بقول ابن سعد مدینہ سے پانچ دن کی مسافت پر ہے۔234 پس یہ جنگ کے لیے نہیں تھا بلکہ کافروں کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا تھا جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا اور یہ ہے امن کے قیام کی کوشش کہ جب وہاں معاہدہ ہو گیا تو دشمن کی حفاظت کے بھی سامان کیسے جائیں تاکہ معاہدہ توڑنے کا کسی قسم کا بہانہ کفار کے ہاتھ نہ آئے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے کام کرنا تھا۔معاہدہ اگر ٹوٹا تو کفار کی طرف سے توڑا گیا اور پھر وہ فتح مکہ پر منتج ہوا۔فتح مکہ اور ابو عبیدہ پیادہ لوگوں کے سردار حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صل ال تیم تشریف لائے یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہو گئے۔حضرت زبیر کو لشکر کے ایک پہلو پر اور حضرت خالد بن ولید کو لشکر کے دوسرے پہلو پر مقرر فرمایا اور حضرت ابو عبیدہ کو پیادہ لوگوں اور وادی کے نشیب کا سر دار بنادیا۔235 بحرین کا جزیہ لانے والے رسول اللہ صلی ال لیلی نے بحرین والوں سے جزیہ کی شرط پر صلح کی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضر می گو امیر مقرر فرمایا تھا۔آپ صلی علیم نے حضرت ابو عبیدہ کو وہاں جزیہ لینے کے لیے بھیجا۔جب