اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 88
تاب بدر جلد 4 88 سے لمبا شخص جو اُن کے ساتھ تھا اس کو لیا اور سفیان بن عیینہ نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ ایک بار انہوں نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پہلی لی، اس کو کھڑا کیا پھر ایک آدمی جمع اونٹ کے لیا جو اس کے نیچے سے گزر گیا۔حضرت جابر نے یہ بھی کہا کہ لشکر میں ایک شخص تھا جس نے لوگوں کے کھانے کے لیے تین دن تین تین اونٹ ذبح کیے۔پھر حضرت ابو عبیدہ نے اس کو روک دیا۔اور عمرو بن دینار کہتے تھے کہ ابو صالح ذکوان نے ہمیں بتایا کہ قیس بن سعد نے اپنے باپ سے کہا میں بھی اسی فوج میں تھا اور ان کو بھوک لگی تو حضرت ابو عبیدہ نے کہا اونٹ ذبح کر لو۔میں نے اونٹ ذبح کر لیا۔کہتے تھے پھر ان کو بھوک لگی۔حضرت ابو عبید ہا نے کہا اونٹ ذبح کر لو۔میں نے اونٹ ذبح کر لیا۔کہتے پھر ان کو بھوک لگی۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا اونٹ ذبح کر لو۔سواریوں والے جو اونٹ تھے اور ساتھ لے کے گئے تھے۔ان پر سامان بھی کچھ ہو گا اب ایسے حالات آگئے کہ انہی کو ذبح کر کے کھا رہے تھے۔کہتے ہیں میں نے اونٹ ذبح کر لیا۔قیس کہتے تھے پھر ان کو بھوک لگی۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ اونٹ ذبح کر لو۔کہتے تھے اس کے بعد پھر مجھے روک دیا گیا کہ اب اونٹ نہیں ذبح کرنے۔وہیل مچھلی جس کا گوشت نبی اکرم صلی الم نے بھی کھایا اکرم ہم دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ جَيْشُ الْخَبَط کے ساتھ حملے میں ہم نکلے اور حضرت ابو عبیدہ کو امیر بنایا گیا تھا۔ہمیں سخت بھوک لگی اور سمندر نے ایک مردہ مچھلی پھینک دی۔زندہ نہیں آئی تھی بلکہ مردہ ہی آئی تھی اور ہم نے ایسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی۔بڑی مچھلی تھی۔جس طرح اس کا حلیہ بیان کیا جاتا ہے یہ وہیل مچھلی ہو گی۔اسے عنبر کہتے ہیں۔ہم اس کا گوشت آدھا مہینہ کھاتے رہے۔پھر حضرت ابو عبیدہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی لی اور سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ابن مجریج نے کہا: ابو زبیر نے مجھے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر سے سنا ہے۔کہتے تھے کہ حضرت ابو عبیدہ نے کہا کھاؤ۔مچھلی کو کھاؤ۔بے شک یہ مردہ ہے لیکن کھاؤ کوئی ہرج نہیں۔جب ہم مدینہ آئے تو نبی صلی علیم سے ہم نے اس کا ذکر کیا کہ اس طرح ایک مردہ مچھلی آئی تھی اور ہم اس کو کھاتے رہے، ضرورت تھی۔آپ نے فرمایا کہ جو رزق اللہ تعالیٰ نے نکالا ہو اسے تم کھاؤ۔اللہ تعالیٰ نے تمہاری حالت دیکھ کر تمہیں بھیجا تھا۔اسے تم نے کھایا تو کوئی ہرج نہیں۔اور اگر کچھ ہے، اگر اپنے ساتھ کچھ لائے ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ان میں سے کسی نے آپ کو ایک حصہ دیا اور آپ صلی ال ولم نے اس کو کھایا۔233 واپسی پر اس کا بچا ہوا گوشت کچھ لے بھی آئے تھے ، وہ پھر آپ صلی یہ کم نے بھی نوش فرمایا۔کفار کی حفاظت کے لئے ایک مہم حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اس سریہ سیف البحر کے ضمن میں اپنی شرح میں لکھتے ہیں سیف البحر یعنی وہی جس کو خبط بھی کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا غزوہ ان غزوات میں سے ہے جن