اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 65
اصحاب بدر جلد 4 65 یہود کا آپس میں اختلاف چنانچہ یہود نے آنحضرت صلی علیم سے صلح کرنے سے انکار کر دیا۔اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ کا فیصلہ مان لیتے تو دوسرے یہودی قبائل کی طرح ان کو زیادہ سے زیادہ یہی سزا دی جاتی کہ ان کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا جاتا مگر ان کی بد قسمتی تھی کہ انہوں نے کہا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی علیم کا فیصلہ ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہم اپنے حلیف قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ کا فیصلہ مانیں گے۔جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا۔لیکن اس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے۔وہ لوگ اپنا مذہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔ایک شخص عمرو بن سعدی نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے۔اب یا تو مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔یہود نے کہا نہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے۔پھر ان سے اس نے کہا کہ میں تم سے بری ہو تا ہوں اور یہ کہہ کر قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا تو مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمہ تھے اسے دیکھ لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟ اس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں۔اس پر محمد بن مسلمہ نے فرمایا کہ اللهُم لَا تَحْرِمْنِي إِقَالَةَ عَثَرَاتِ الْكِرَامِ یعنی اپنی سلامتی سے چلے جائیے اور پھر اللہ سے دعا کی کہ الہی مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔یعنی یہ شخص چونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اسے معاف کر دیں اس لئے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا۔خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتا رہے۔جب رسول اللہ صلی علی یم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو سرزنش نہیں کی کہ کیوں اس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اس کے فعل کو سراہا۔155 یہود اپنی تباہی کے خود ذمہ دار تھے آنحضرت علی ایم کے بارے میں بھی جو کہا جاتا ہے کہ آپ نے زیادتیاں کیں اور ظلم کئے اور یہودی قبائل کو قتل کیا تو یہ تو خود اپنی تباہی کے ذمہ وار تھے۔آنحضرت صلی علیم سے فیصلہ کروانے کے بجائے انہوں نے اپنے ایک سردار سے، دوسرے قبیلہ کے سردار سے جو مسلمان ہو چکے تھے ان سے فیصلہ کر وایا اور پھر ان کی کتاب کے مطابق یہ فیصلہ ہوا۔بہر حال آنحضرت صلی علی کم پر کوئی الزام نہیں۔نہ صحابہ پر ہے کہ انہوں نے کوئی ظلم کیا۔مدینہ میں پھر نیابت کا اعزاز علامہ ابن سعد نے لکھا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ غزوہ قینقاع اور غزوہ سویق میں بھی