اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 59

اصحاب بدر جلد 4 59 اس وقت حضرت ابو عقیل زخمی تھے۔انہوں نے حضرت مغن بن عدی کی آواز سنی وہ انصار کو بلند آواز سے لڑنے کے لئے ابھار رہے تھے کہ اللہ پر بھروسہ کرو۔اللہ پر بھروسہ کرو اور اپنے دشمن پر دوبارہ حملہ کرو۔اور حضرت معن لوگوں کے آگے آگے تیزی سے چل رہے تھے۔یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ انصار کہہ رہے تھے کہ ہم انصار کو دوسروں سے الگ کر دو۔ہم انصار کو دوسروں سے الگ کر دو۔چنانچہ ایک ایک کر کے انصار ایک طرف جمع ہو گئے اور مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ جم کر لڑیں گے اور بہادری سے آگے بڑھیں گے اور دشمن پر حملہ کریں گے اس سے تمام مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے اور حوصلے بڑھ جائیں گے۔حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابو عقیل انصار کے پاس جانے کے لئے کھڑے ہو گئے۔زخمی حالت میں تھے ، بہت کمزوری تھی لیکن کھڑے ہو گئے۔میں نے کہا کہ اے ابو عقیل آپ کیا چاہتے ہیں آپ میں لڑنے کی طاقت تو ہے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس منادی نے میر انام لے کر آواز لگائی ہے۔میں نے کہا کہ وہ تو انصار کو بلا رہا ہے نہ کہ زخمیوں کو۔وہ تو ان لوگوں کو بلا رہا ہے جو لڑنے کے قابل ہوں۔حضرت ابو عقیل نے کہا کہ انہوں نے انصار کو بلایا ہے اور میں چاہے زخمی ہوں لیکن میں بھی انصار میں سے ہوں اس لئے میں ان کی پکار پر ضرور جاؤں گا چاہے مجھے گھٹنوں کے بل جانا پڑے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عقیل نے اپنی کمر باندھی اور اپنے دائیں ہاتھ میں ننگی تلوار لی اور پھر یہ اعلان کرنے لگے کہ اے انصار جنگ حنین کی طرح دشمن پر دوبارہ حملہ کرو۔چنانچہ انصار جمع ہو گئے۔اللہ ان پر رحم فرمائے۔اور مسلمان بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کی طرف بڑھے یہاں تک کہ دشمن کو میدان جنگ چھوڑ کر باغ میں گھس جانے پر مجبور کر دیا۔مسلمان اور دشمن ایک دوسرے میں گھس گئے اور ہمارے درمیان اور ان کے درمیان تلواریں چلنے لگیں۔نبی کریم ملی ایم کے بہترین صحابہ میں سے حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عقیل کو دیکھا ان کا زخمی ہاتھ کندھے سے کٹ کر زمین پر گرا ہوا تھا اور ان کے جسم پر چودہ زخم تھے جن میں سے ہر زخم جان لیوا تھا اور اللہ کا دشمن مسیلمہ قتل ہو گیا تھا وہ بھی ساتھ ہی پڑا تھا۔حضرت ابو عقیل زمین پر زخمی پڑے ہوئے تھے اور ان کے آخری سانس تھے۔میں نے جھک کر ان سے کہا اے ابو عقیل ! انہوں نے کہا لبیک حاضر ہوں اور لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے پوچھا کہ فتح کس کو ہوئی ہے ؟ میں نے کہا آپ کو خوشخبری ہو کہ مسلمانوں کو فتح ہوئی ہے اور میں نے بلند آواز سے کہا کہ اللہ کا دشمن مسیلمہ کذاب قتل ہو چکا ہے۔اس پر انہوں نے اللہ کی حمد بیان کرتے ہوئے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور انتقال فرما گئے۔اللہ ان پر رحم فرمائے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ مدینہ واپس آنے کے بعد میں نے حضرت عمر کو ان کی ساری کار گزاری سنائی تو