اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 575

575 اصحاب بدر جلد 4 قافلہ میں شریک ہو کر حبشہ چلے گئے تھے۔کچھ عرصہ بعد یہ افواہ سن کر کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں حضرت شجاع حبشہ سے واپس مکہ آگئے۔کچھ مدت بعد حضور صلی علی ایم نے صحابہ کرام کو مدینہ ہجرت کرنے کا اذن دیا تو آپ بھی اپنے بھائی عقبہ بن وہب کے ساتھ ارض مکہ کو خیر باد کہہ کر مدینہ چلے گئے۔حضور صلی یکم نے حضرت اوس بن خولی کو حضرت شجاع کا دینی بھائی بنایا تھا۔مؤاخات جو قائم کی نتھی اس میں حضرت شجاع کا بھائی بنایا تھا۔حضرت شجاع بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں حضور صلی ال نیم کے ساتھ شامل رہے اور چالیس برس سے کچھ زائد عمر پا کر جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔نبی اکرم علی کا خط ریاست عنسان کے سربراہ کی طرف 1308 غزوہ حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد آنحضرت صلی لی میم نے اکثر سلاطین عالم کو دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے تھے۔حضرت عبد الرحمن سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم ایک روز منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے۔حمد وثنا کے بعد آپ صلی الم نے فرمایا میں تم میں سے بعض کو شاہان عجم کی طرف بھیجنا چاہتا ہوں۔جو غیر عرب بادشاہ ہیں ان کی طرف بھیجنا چاہتا ہوں۔تم مجھ سے اختلاف نہ کرنا جیسا بنی اسرائیل نے عیسی سے کیا تھا۔تو مہاجرین نے عرض کیا یا رسول صلی یہ کم ہم آپ سے کبھی کچھ اختلاف نہ کریں گے آپ ہمیں بھجوائیے۔309 چنانچہ جن صحابہ کو اس دینی فریضہ کے انجام دینے کی سعادت ملی ان میں حضرت شجاع بن وہب بھی شامل تھے۔آپ صلی اہلیہ کلم نے حضرت شجاع کو حارث بن ابی شمر غسانی کی طرف جو دمشق کے قریب مقام غوطہ کارئیس تھا سفیر بنا کر بھیجا اور بعض کے نزدیک اس کا نام منذر بن حارث بن ابی شمر عنسانی تھا۔بہر حال آپ نے تبلیغ کا جو خط بھیجا اس کے ابتدائی فقرے یہ تھے کہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) إِلَى الْحَارِثِ ابْنِ أَبِي شِمَر سَلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَآمَنَ بِاللَّهِ وَصَدَّقَ فَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ يَبْقَى لَكَ مُلْكُكَ۔محمد رسول اللہ صلی علیکم کی طرف سے حارث بن ابی شمر کی طرف، سلامتی ہے اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔اللہ پر ایمان لائے اور تصدیق کرے۔بیشک میں تم کو اس خدا پر ایمان لانے کی دعوت 1310 دیتا ہوں جو ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔اسی صورت میں تمہاری سلطنت باقی رہے گی۔عنسانی بادشاہ کے سیکیورٹی انچارج کا قبول اسلام اور نبی صلی کمی کی خدمت میں تحفہ اور سلام حضرت شجاع کہتے ہیں کہ میں خط لے کر روانہ ہوا یہاں تک کہ حارث بن ابی شمر کے محل کے دروازے پر پہنچا وہاں دو تین دن گزر گئے مگر دربار میں رسائی نہیں ہو سکی۔آخر میں نے وہاں کا جو سیکیورٹی کا انچارج تھا اس سے کہا کہ میں رسول اللہ صلی علیکم کے ایچی کی حیثیت سے اس کے پاس آیا ہوں۔تو اس نے کہا کہ یہ جو رئیس ہے وہ فلاں دن باہر آئیں گے اس سے پہلے تم ان سے کسی طرح نہیں مل