اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 569
صحاب بدر جلد 4 569 حصہ گزارتے تھے۔یہیں اسلامی نماز کا باقاعدہ باجماعت صورت میں آغاز ہوا۔یہیں تمام مسلمان جمعہ کے دن خدا کی تازہ وحی کو سننے کے لیے مؤدبانہ اور مرعوب حالت میں جمع ہوتے تھے۔یہیں محمد صلی علیکم اپنی فتوحات کی تجاویز پختہ کیا کرتے تھے۔یہی وہ ایوان تھا جہاں مفتوح اور تائب قبائل کے وفودان کے سامنے پیش ہوتے تھے۔یہی وہ دربار تھا جہاں سے وہ شاہی احکام جاری کیے جاتے تھے جو عرب کے دور دراز کونوں تک باغیوں کو خوف سے لرزا دیتے تھے اور بالآخر اسی مسجد کے پاس اپنی بیوی عائشہ کے حجرے میں محمد صلی اللہ ہم نے اپنی جان دی اور اسی جگہ اپنے دو خلیفوں کے پہلو بہ پہلو مدفون ہیں۔یہ مسجد اور اس کے ساتھ کے حجرے کم و بیش سات ماہ کے عرصہ میں تیار ہو گئے اور آنحضرت صلی للی نیم اپنے نئے مکان میں اپنی بیوی حضرت سودہ کے ساتھ تشریف لے گئے۔بعض دوسرے مہاجرین نے بھی انصار سے زمین حاصل کر کے مسجد کے آس پاس مکانات تیار کر لیے اور جنہیں مسجد کے قریب زمین نہیں مل سکی انہوں نے دور دور مکان بنا لیے اور بعض کو انصار کی طرف سے بنے بنائے مکان مل گئے۔1290 بہر حال حضرت سھیل اور ان کے بھائی وہ خوش قسمت تھے جن کو اسلام کے اس عظیم مرکز میں اپنی زمین پیش کرنے کی توفیق ملی 1 1291 159 حضرت سہیل بن وہب ย جنگ بدر میں اپنے بھائی کے ساتھ شریک ہونے والے حضرت سہیل بن وہب ہیں۔ان کا نام حضرت سہیل بن وہب بن ربیعہ بن عمرو بن عامر قریشی تھا۔ان کی والدہ کا نام دعد تھا مگر وہ بیضاء کے نام سے مشہور تھیں۔اس لئے آپ بھی ابن بیضاء کے نام سے مشہور ہوئے۔چنانچہ کتب میں آپ کا نام سہیل بن بیضاء بھی ملتا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو فھر سے تھا۔1292 حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت ابتدائی زمانے میں یہ اسلام لائے۔اسلام لانے کے بعد حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔وہاں عرصہ تک مقیم رہے۔جب اسلام کی اعلانیہ تبلیغ ہونے لگی تو مکہ واپس آگئے اور پھر آنحضرت صلی ال نیم کے بعد مدینہ گئے۔1293