اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 560

تاب بدر جلد 4 560 1270 کے ان کو قتل کر دیا اس لئے کہ وہ جنگ کے لئے اور چھپ کر حملہ کر کے قتل کرنے کے لئے نکلے تھے۔اس دستہ میں جو حضرت علی کے ساتھ گیا تھا حضرت ابو دجانہ اور حضرت سہل بن حنیف بھی شامل تھے۔کوئی دن نہیں تھا جو اس زمانے میں آرام و سکون سے گزر تاہو ہر وقت دشمن حملے کی تاک میں تھا۔تو ایسے دشمنوں کے ساتھ پھر یہی سلوک ہونا چاہئے تھا۔غزوہ وادی القریٰ اور دشمن سے حسن سلوک رسول اللہ صلی علیم نے فتح خیبر کے بعد وادی القری کا رخ فرمایا۔جب آنحضرت صلی لی یکم کا لشکر وادی القری میں اتر اتو یہود پہلے سے جنگ کے لئے تیار تھے۔چنانچہ انہوں نے تیروں کے ساتھ استقبال کیا۔مسلمانوں پر تیر پھینکنے شروع کر دیئے۔آنحضرت صلی علیہم کا غلام جس کا نام میں عمہ تھا آپ صلی علیہم کی سواری سے کجاوہ وغیرہ اتار رہا تھا کہ ایک اندھا تیر آکر اسے لگا جس سے وہ جاں بحق ہو گیا۔آنحضرت صلی اللی کم نے فوراً صف بندی کا حکم دیا۔لواء حضرت سعد بن عبادہ کو عنایت فرمایا اور جھنڈوں میں سے ایک حضرت اور حباب بن منذر اور دوسر احضرت سہل بن حنیف کو اور تیسر احضرت عباد بن بشر کو سونپا۔اس لڑائی کے نتیجہ میں یہ سارا علاقہ مسلمانوں کے زیر نگیں آگیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فتح عطا فرمائی یہاں سے اللہ تعالیٰ نے کثیر مال عطا فرمایا۔آنحضرت صلی المیہ ہم نے یہاں چار دن قیام فرمایا۔صحابہ میں غنائم تقسیم فرمائے۔یہاں کی زمین اور باغات یہود کے پاس رہنے دیئے۔باوجو د فتح کرنے کے زمین اور باغات جو تھے ان لوگوں کے پاس ہی رہنے دیئے مگر اپنی طرف سے ان پر ایک عامل مقرر فرما دیا۔تو یہ ہے دشمن سے بھی حسن سلوک کی اعلیٰ مثال کہ ملکیت ان کے پاس ہی رہی اور ان سے کچھ ٹیکس یا حصہ وصول کیا جاتا تھا۔اس زمانے کے رواج کے مطابق اگر ایسے دشمن کے مال اور جائیداد پر قبضہ بھی کر لیا جاتا تو حرج نہیں تھا۔لیکن آپ صلی اللہ ہم نے ان پر احسان کیا۔1 1271 عیسائی کے جنازہ کا احترام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی کتاب میں سیرت خاتم النبیین میں تحریر فرماتے ہیں کہ : جب شام کا ملک فتح ہوا اور وہاں کی عیسائی آبادی اسلامی حکومت کے ما تحت آگئی تو ایک دن جبکہ آنحضرت علی علم کے صحابی سہل بن محنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے کسی شہر میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس سے ایک عیسائی کا جنازہ گزرا۔یہ دونوں اصحاب اس کی تعظیم میں کھڑے ہوئے۔ایک مسلمان نے جو آنحضرت صلی علیہ کمر کا صحبت یافتہ نہیں تھا اور ان اخلاق سے نا آشنا تھا جو اسلام سکھاتا ہے یہ دیکھ کر بہت تعجب کیا اور حیران ہو کر سہل اور قیس سے کہا کہ یہ تو ایک ذقی عیسائی کا جنازہ ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ہم جانتے ہیں مگر آنحضرت صلی للی کم کا یہی طریق تھا کہ آپ غیر مسلموں کے جنازے کو دیکھ کر بھی کھڑے ہو جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ کیا ان میں خدا کی پیدا کی ہوئی