اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 552

تاب بدر جلد 4 552 پوچھا کہ وہ کب آئے گا ؟ تو اس نے میری طرف اشارہ کیا۔کہتے ہیں میں بچہ تھا، چھوٹا تھا میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس لڑکے نے عمر پائی تو یہ ضرور اس نبی کو دیکھے گا۔حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کو کچھ سال ہی گزرے تھے کہ نبی کریم صلی للی کم کی آمد کی ہمیں اطلاع ملی اور ہم سب ایمان لے آئے، یہ جو بت پرست تھے آگ پرست تھے سب ایمان لے آئے۔کہتے ہیں اس وقت وہ یہودی عالم بھی زندہ تھا مگر حسد کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لایا اور ہم نے اس کو کہا کہ تم نہیں نبی صلی علیکم کی آمد کی خبر میں سنایا کرتے تھے اب خود ہی ایمان نہیں لائے۔اس پر اس نے کہا کہ یہ وہ نبی نہیں ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔کہتے ہیں کہ آخر وہ شخص اسی طرح کفر کی حالت میں مر گیا۔فتن کے زمانہ میں عزلت نشینی اور وفات حضرت عثمان کے زمانے میں جب فتنوں نے سر اٹھایا تو آپ نے عزلت نشینی اختیار کر لی اور اپنے آپ کو عبادت الہی کے لئے وقف کر دیا۔1245 یعنی کہ گوشہ نشین ہو گئے کیونکہ فتنے اس وقت کافی بڑھ رہے تھے اور صرف عبادت الہی کیا کرتے تھے۔ان کی وفات کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں 34 ہجری میں وفات ہوئی بعض کہتے ہیں 45 ہجری میں وفات ہوئی۔ان کی عمر 74 سال تھی جب ان کی وفات ہوئی اور مدینہ میں ہی وفات ہوئی۔1246 147 حضرت سلیط بن قیس حضرت سلیط بن قیس بن عمرو۔ان کی وفات 14 ہجری میں ہوئی۔حضرت سلیط بن قیس بن عمرو بن عُبيد بن مالک ان کا پورا نام ہے۔حضرت سلیط بن قیس اور حضرت ابوھڑ مہ دونوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد خاندان بنو عدی بن نجار کے بت توڑ دیئے۔آنحضرت صلی اللی علم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو جب آپ صلی علیہ کی اونٹنی پر بیٹھ کر مدینہ شہر میں داخل ہو رہے تھے تو ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ آنحضرت صلی علیہ لکم ان کے گھر میں قیام کریں۔جب آپ کی اونٹنی بنو عدی کے گھر کے پاس پہنچی اور یہ لوگ رسول اللہ صلی علیم کے ماموں تھے کیونکہ سلمیٰ بنت عمرو، عبد المطلب کی والدہ اسی قبیلہ سے تھیں۔اس وقت حضرت سلیط بن قیس، ابوسليط أسيره بن ابو خارجہ نے روکنا چاہا تو آنحضور صلی الیم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو کہ اس وقت یہ مامور ہے۔یعنی جہاں خدا کا منشاء ہو گا وہاں یہ خود بیٹھ