اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 543 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 543

ناب بدر جلد 4 رض 543 لیے بھیجا۔یہ دونوں کو راء پہنچے۔یہ وہاں ایک جگہ ہے۔وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ قافلہ ان کے پاس سے گزرا۔حوراء بحیرہ احمر پر واقع ایک پڑاؤ ہے جہاں سے حجاز اور شام کے درمیان چلنے والے قافلے گذرتے تھے۔بہر حال رسول اللہ صلی علی یم کو حضرت طلحہ اور حضرت سعید کے واپس آنے سے پہلے ہی یہ خبر معلوم ہو گئی کہ وہ قافلہ تو وہاں سے گذر کے چلا گیا ہے۔اب اس طرف آنے کا ارادہ نہیں ہے۔اس وقت وہ قافلہ ادھر آنے کی بجائے جب گذر گیا تو ابھی صحیح حالات کی خبر تو نہیں تھی لیکن یہ بہر حال آنحضرت صلی ال یکم کو خبر پہنچ گئی کہ قافلہ وہاں سے گذر گیا ہے۔اس پر آپ نے صحابہ کو بلایا اور قریش کے قافلے کے قصد سے روانہ ہوئے مگر قافلہ ساحل کے ساتھ راستے سے تیزی سے نکل گیا اور تلاش کرنے والوں سے بچنے کے لیے دن رات چلتا رہا۔قافلے والوں نے بھی اپنا راستہ بدل لیا تو ادھر ٹکراؤ نہیں ہوا۔جس راستے سے ان کے آنے کی توقع تھی وہاں سے نہیں گزرا بلکہ ایک چکر کاٹ کے ساحل کی طرف چلا گیا۔اس کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت سعید بن زید مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ رسول اللہ صلی کم کو قافلے کی خبر دیں۔ان دونوں کو آپ کی غزوہ بدر کے لیے روانگی کا علم نہیں تھا۔یہ مدینہ اس دن پہنچے جس دن رسول اللہ صلی علیم نے بدر میں قریش کے لشکر سے مقابلہ کیا تھا۔یہ دونوں بھی رسول اللہ صلی العلیم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے اور آپ کی بدر سے واپسی پر زبان میں ملے۔تربان مدینہ سے انہیں میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے جس میں کثرت سے میٹھے پانی کے کنویں ہیں۔غزوہ بدر کے لیے جاتے ہوئے رسول اللہ صلی علیکم نے یہاں قیام فرمایا تھا۔یہ تجارتی قافلہ دوسر ا تھا جو ادھر سے نکل گیا لیکن ملنے سے حملہ کرنے کے لیے جو ایک فوج آئی تھی وہ دوسری تھی جن کی بدر کے مقام پر مڈھ بھیڑ ہوئی لیکن بہر حال آنحضرت صلی لی لی امی اس لیے نکلے تھے کہ اس قافلے کو دیکھیں کہ ان کی نیت کیا ہے۔یہ نہیں پتا تھا کہ ایک فوج بھی آرہی ہے۔بہر حال آگے ذکر یہ ہے کہ حضرت طلحہ اور حضرت سعید جنگ میں شامل نہ ہوئے مگر رسول اللہ صلی الی الم نے بدر کے مال غنیمت میں سے ان کو حصہ عطا فرمایا اور یہ دونوں بدر میں شاملین ہی قرار دیے گئے۔1219 عشرہ مبشرہ میں سے ایک حضرت سعید بن زید عشرہ مبشرہ یعنی ان دس خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی علی دلم کی زبان مبارک سے اسی دنیا میں جنت کی خوشخبری ملی۔حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی الم نے ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن خداصلی زید اور ابو عبيدة بن الجراح میں سے ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ یہ جنتی ہیں۔1220 حضرت سعید بن زید بیان کرتے ہیں کہ میں نو لوگوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی یہی کہوں، گواہی دوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا۔کہا گیا وہ کیسے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی المی ریم کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے تو وہ ہلنے لگا۔اس پر