اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 526
ب بدر جلد 4 526 کی طرف آگے بڑھے۔حضرت سعد آنحضرت صلی علیم کے قریب آئے تو آپ صلی الم نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا سعد بأبنو قریظہ نے تمہیں حکم مانا ہے اور ان کے متعلق تم جو فیصلہ کرو انہیں منظور ہو گا۔اس پر سعد نے اپنے قبیلے اوس کے لوگوں کی طرف نظر اٹھا کر کہا کہ کیا تم خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ پختہ عہد کرتے ہو کہ تم بہر حال اس فیصلہ پر عمل کرنے کے پابند ہو گے جو میں بنو قریظہ کے متعلق کروں ؟ لوگوں نے کہا ہاں ہم وعدہ کرتے ہیں۔پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جو ذکر فرمایا ہے اس میں بھی بیان ہو چکا ہے۔بہر حال پھر سعد نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں آنحضرت صلی علی کی تشریف رکھتے تھے کہا کہ وہ صاحب جو۔۔۔( انہوں نے اس طرح یہاں لکھا ہے کہ وہ صاحب جو ) یہاں تشریف رکھتے ہیں کیا وہ بھی ایسا ہی وعدہ کرتے ہیں کہ وہ بہر حال میرے فیصلہ کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔اس پر آنحضرت صلی یم نے فرمایا کہ میں وعدہ کرتا ہوں۔اس عہد و پیمان کے بعد سعد نے اپنا فیصلہ سنایا جو یہ تھا کہ بنو قریظہ کے مقاتل یعنی جنگجو لوگ قتل کر دیے جائیں اور ان کی عور تیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دیے جائیں۔آنحضرت صلی علیہ یکم نے یہ فیصلہ سنا تو بے ساختہ فرمایا کہ تمہارا یہ فیصلہ ایک خدائی تقدیر ہے جو ٹل نہیں سکتی اور ان الفاظ سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ بنو قریظہ کے متعلق یہ فیصلہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ اس میں صاف طور پر خدائی تصرف کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اور اس لیے آپ کا جذبہ رحم اسے روک نہیں سکتا۔اور یہ واقعی درست تھا کیونکہ بنو قریظہ کا ابولبابہ کو اپنے مشورہ کے لیے بلانا اور ابو لبابہ کے منہ سے ایک ایسی بات نکل جانا جو سر اسر بے بنیاد تھی اور بنو قریظہ کا آنحضرت صلی علیہ ہم کو حکم ماننے سے انکار کرنا اور اس خیال سے کہ قبیلہ اوس کے لوگ ہمارے حلیف ہیں اور ہم سے رعایت کا معاملہ کریں گے سعد بن معاذ رئیس اوس کو اپنا حکم مقرر کرنا، پھر سعد کا حق و انصاف کے رستے میں اس قدر پختہ ہو جانا کہ عصبیت اور جتھصہ داری کا احساس دل سے بالکل محو ہو جاوے اور بالآخر سعد کا اپنے فیصلہ کے اعلان سے قبل آنحضرت صلی علی نام سے اس بات کا پختہ عہد لے لینا کہ بہر حال اس فیصلہ کے مطابق عمل ہو گا۔یہ ساری باتیں اتفاقی نہیں ہو سکتیں اور یقیناً ان کی تہ میں خدائی تقدیر اپنا کام کر رہی تھی اور یہ فیصلہ خدا تعالیٰ کا تھانہ کہ سعد کا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنو قریظہ کی بد عہدی اور غداری اور بغاوت اور فتنہ وفساد اور قتل و خونریزی کی وجہ سے خدائی عدالت سے یہ فیصلہ صادر ہو چکا تھا کہ ان کے جنگجو لو گوں کو دنیا سے مٹادیا جاوے۔چنانچہ ابتداء آنحضرت مصلی یہ کام کو اس غزوہ کے متعلق غیبی تحریک ہونا بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک خدائی تقدیر تھی مگر خدا کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کے رسول کے ذریعہ سے یہ فیصلہ جاری ہو اور اس لیے اس نے نہایت پیچ در پیچ غیبی تصرفات سے آنحضرت صلی للی نام کو بالکل الگ رکھا اور سعد بن معاذ کے ذریعہ اس فیصلہ کا اعلان کروایا اور فیصلہ بھی ایسے رنگ میں کروایا کہ اب آنحضرت صلی اللہ ہم اس میں بالکل دخل نہیں دے سکتے تھے کیونکہ آپ وعدہ فرما چکے تھے کہ آپ بہر حال اس فیصلہ کے پابند رہیں گے اور پھر چونکہ اس فیصلہ کا اثر بھی صرف آپ کی ذات پر نہیں پڑتا تھا بلکہ تمام